انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 304

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۴ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو جہاں تک مدرسہ کی تعلیم کا سوال ہے میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میں پرائمری کے امتحان میں بھی فیل ہوا۔مڈل کے امتحان میں بھی فیل ہوا۔پھر انٹرنس کا امتحان دیا تو اس میں بھی فیل ہوا لیکن میری عمر ابھی ۱۷ سال کی تھی جب میں نے تفخیذ الاذہان جاری کیا اُس وقت یہ رسالہ سہ ماہی نکلتا تھا۔بعد میں ماہوار کر دیا گیا یعنی ایک سال تک رسالہ سہ ماہی رہا اگلے سال ماہوار کر دیا گیا۔لیکن تم میں کتنے خدام ہیں جن کو ۱۷ سال کی عمر میں کام کا احساس ہو چُکا ہو اور اُنہوں نے کوئی کام شروع کر دیا ہو۔اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جس نے ۱۷ سال کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا تو کم از کم اسے اتنی تسلی ضرور ہوگی کہ وہ اگر ۳۰ سال کی عمر میں بھی فوت ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے سامنے وہ یہ کہہ سکے گا کہ میں نے ۱۳ سال تو کام کر لیا لیکن اگر تم پڑھتے چلے جاتے ہو اور کام کرنے کا احساس تمہارے اندر پیدا نہیں ہوتا تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا کہو گے۔اگر ۳۰ سال کی عمر میں تم میں۔کوئی خادم فوت ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے کیا کہے گا کہ اس کی قوم نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا۔ماں باپ نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا۔مذہب نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا۔ملک نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا۔کیا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہے گا کہ میں ساری عمر ڈی او جی۔ڈاگ (Dog) ڈاگ معنے گتا“ کا سبق دہراتا رہا۔خدا تعالیٰ سوال کرے گا کہ تم نے دُنیا میں کیا کام کیا ؟ تو کیا تم یہ کہو گے ڈی او جی ڈاگ (Dog) ڈاگ معنے گتا۔یہ کوئی زندگی ہے۔تم دُنیا میں پیدا ہوئے اور پھر مر گئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہنے لگے کہ میں ساری عمر یہی سبق دُہرا تا رہا۔خدا تعالیٰ کہے گا کہ تم بھی گتے ہی ہوا اور کتے سے بھی بدتر ہو۔یا درکھو جلدی جلدی پڑھنا ہتھیار کا کام دیتا ہے لیکن ہمارے ملک کے نو جوانوں کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے گھر پر ڈا کو آئے اور اُنہوں نے گھر کی عورتوں پر ہاتھ ڈالا لیکن وہ ابھی چھری تیار کر رہا تھا۔بعد میں وہ چھری تیار کر کے لے بھی آیا تو اُسے کیا فائدہ ہوگا۔غرض تھوڑی سے تھوڑی مدت میں علم کو ختم کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ہمارا