انوارالعلوم (جلد 22) — Page 300
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۰۰ اپنے اندر سچائی، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو سچ کے خلاف فعل اُس وقت متصور ہو گا جب قاضی یا قائمقام قاضی جسے شریعت نے اپنے دائرہ میں گواہی لینے کا حق دیا ہے ، تم سے دریافت کرے اور تم سچ نہ بولو۔مثلاً تم سکول کے ساتھ تعلق رکھتے ہو تو اگر کسی لڑکے نے دوسرے لڑکے کو مارا یا اُس نے گالی دی یا سکول کی کوئی چیز اٹھا لی تو مجسٹریٹ ہیڈ ماسٹر ہے۔اگر وہ تمہیں بلائے اور تم سے دریافت کرے کہ فلاں بات کیسے ہوئی تو تم ٹھیک ٹھیک واقعہ بیان کر دو لیکن اگر وہ تمہیں گواہی کے لئے نہ بُلائے تو خواہ وہ بات درست ہی ہو اس کا چھپا نا سچ کے خلاف نہیں بلکہ اس طرح تم صلح پسند بنتے ہو اور فتنہ سے دُور رہتے ہو۔دوسری چیز محنت ہے یہ خلق بھی ہمارے ملک میں بہت کم پایا جاتا ہے اور مسلمانوں کی تباہی کا زیادہ تر موجب یہی تھا کہ اُن میں محنت کی عادت جاتی رہی تھی۔جتنے وقت میں ہمارے نوجوان ایک چھوٹا اور ادنی علم سیکھ سکتے ہیں وہ درحقیقت دُنیا میں چوٹی پر پہنچنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ہمارے نوجوان ۲۵ ، ۲۶ سال کی عمر میں کالج سے فارغ ہوتے ہیں لیکن دُنیا کے دوسرے ممالک کے لوگ اس عمر میں چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں۔جس وقت ہمارے نو جو ان کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں دوسرے ممالک کے لوگ اس وقت تک ملک میں کافی شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔اُن کے کام کا زمانہ پندرہ سولہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے لیکن ہمارے نوجوان ۲۵، ۲۵ سال کی عمر تک ماں باپ کی کمائی پر پلتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر محنت کی عادت نہیں پائی جاتی۔انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ بزرگوں کا فرض ہے کہ وہ ہمیں کھلا ئیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا بھی کوئی فرض ہے۔کہتے ہیں ایک بوڑھا شخص کوئی ایسا درخت لگا رہا تھا جو دیر سے پھل دیا کرتا ہے۔ایران کا بادشاہ اس بوڑھے کے پاس سے گزرا اور اس سے دریافت کیا۔بوڑھے تم ۸۰۷۰ سال کے ہو چکے ہو اور یہ درخت جب پھل دے گا اُس وقت تک تم مر چکے ہو گے تم یہ درخت کیوں لگا رہے ہو؟ بوڑھے نے جواب دیا۔بادشاہ سلامت ! آپ کیا کہہ رہے ہیں اگر یہی خیال ہمارے بزرگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا اور وہ یہ درخت نہ