انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 299

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۹ اپنے اندر سچائی، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو حکم دیا ہے کہ گواہی صرف قاضی لے کیونکہ بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں شریعت کہتی ہے کہ گواہی نہ لو۔اب اگر گواہی لینے والا قاضی نہ ہو تو ہو سکتا ہے وہ کوئی ایسی بات پوچھ لے جس کے پوچھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اور اس طرح فتنہ پھیل جائے۔مثلاً ایک شخص کسی دوسرے شخص پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے چوری کی تو اب چوری کرنا بے شک جرم ہے لیکن قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی بات مان لے اور فیصلہ کر دے کہ اس نے فی الواقعہ چوری کی ہے۔قاضی کو فیصلہ کرنے کا اُسی وقت اختیار ہے جب الزام لگانے والا الزام کو گواہیوں سے ثابت کر دے۔شریعت نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے نے اور تو بہ کا دروازہ اُسی وقت کھلا رہ سکتا ہے جب اخفاء کا دروازہ کھلا رہے۔جب کسی مجرم کو چھپانے کی اجازت نہیں تو پھر تو بہ کا دروازہ بھی گھلا نہیں۔مثلاً اگر کسی نے دوسرے شخص کا کھانا اُٹھا لیا تو ہو سکتا ہے وہ ایسا کرنے میں معذور ہو اور خدا تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا ہو یا ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ مالک کو اپنے پاس سے بدلہ دے دے یا ہوسکتا ہے کہ کھانا کھا لینے کے بعد اسے یہ خیال آئے کہ میں نے بڑی غلطی کی ہے۔اگر دو وقت کا پہلے فاقہ تھا تو ایک وقت کا فاقہ اور برداشت کر لیتا۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے اور کہے خدایا ! میں نے غلطی کی ہے تو مجھے معاف کر دے اور خدا تعالیٰ نے اُسے معاف کر دیا ہو اور جس شخص کا کھانا اُس نے کھایا ہے وہ بھی صبر کر لے۔لیکن اگر اسے کھانا کھاتے ہوئے کوئی دیکھ لیتا ہے اور وہ مالک کو کہہ دیتا ہے کہ فلاں نے تمہاری چوری کی ہے تو یہ سچ نہیں بلکہ فتنہ اور شرارت ہے۔اس قسم کی شکایت اگر قاضی کے پاس جائے تو چونکہ وہ شریعت کا واقف ہو گا۔وہ کہے گا دو گواہ لاؤ۔اور اگر دو گواہ مل جاتے ہیں تو پتہ لگا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی نہیں کی لیکن اگر وہ بغیر گواہوں کے اس کی بات کو مان لیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی پردہ پوشی کو توڑتا ہے۔پس سچ کے یہ معنے نہیں کہ جو کچھ تم دیکھوا سے ضرور بیان کرو اور نہ سچ کے یہ معنے ہیں کہ تم جو کچھ دیکھو اُسے ہر ایک کے سامنے بیان کرو۔اگر غیر قاضی تم سے سوال کرتا ہے تو تم کہہ دو میں نہیں بتا تا۔اسی طرح اگر تم کسی شخص کو کوئی مجرم کرتے دیکھتے ہو تو تمہارا اُس پر پردہ ڈال دینا سچ کے خلاف نہیں۔تمہارا