انوارالعلوم (جلد 22) — Page 296
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۶ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو کہ دیتا ہے کہ میں نے نہیں دیکھی۔جو چیز اس نے خود سُنی ہے اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ میں نے نہیں سنی۔جو چیز وہ خود چکھتا ہے اس کے متعلق وہ کہہ دیتا ہے کہ فلاں چیز میں نے نہیں چکھی۔اُس کے ہاتھوں نے ایک چیز اُٹھائی ہوتی ہے لیکن وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے فلاں چیز نہیں اُٹھائی۔گویا وہ اپنی تردید آپ کرتا ہے اور اس سے زیادہ فطرت کے خلاف اور کیا چیز ہو گی۔محبہ ایسی چیز پر ہو سکتا ہے جس میں قیاس کا دخل ہو حواسِ خمسہ کے افعال پر مجبہ نہیں کیا جاسکتا اور حواس خمسہ کے افعال کے خلاف بات کہنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔جو شخص حواس خمسہ کی تردید کرتا ہے وہ گویا اپنی زبان ، ہاتھ ، ناک اور کان کی تردید کرتا ہے اور پھر وہ اس میں سب سے زیادہ لذت محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف آپ گواہی دے رہا ہے۔ایک انسان کے ہاتھ ایک چیز پکڑتے ہیں اور وہ کہتا ہے میں نے فلاں چیز نہیں پکڑی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کہتا ہے کہ تم نے فلاں چیز نہیں پکڑی۔ایک چیز اُس کی زبان چھتی ہے لیکن وہ کہتا ہے میں نے فلاں چیز نہیں چکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں چیز نہیں چکھی۔یا اُس کے کان ایک بات سنتے ہیں اور وہ اس کا انکار کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کانوں سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں بات نہیں سنی۔اب یہ کتنی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے مگر لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور واقعہ آنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔اب اگر میں یہ کہوں کہ تم جھوٹ بولتے ہو یا نہیں؟ تو تم یہ بات نہیں سمجھ سکو گے۔لیکن میں یہ سوال اور طرح کرتا ہوں۔(اس موقع پر حضور نے خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خادم کھڑے ہو جائیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ میرے سارے دوست سچ بولتے ہیں۔مگر اس پر کوئی نوجوان کھڑا نہ ہوا۔تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:-) دیکھو یہ مرض اتنا پھیل چکا ہے کہ تم میں سے ایک خادم بھی ایسا کھڑا نہیں ہو ا جو کہہ سکے کہ میرے سارے دوست سچ بولتے ہیں حالانکہ اس کا علاج آسان تھا کہ جب تمہارا کوئی دوست جھوٹ بولتا تو اُسے کہتے کہ آج سے میں تمہارا دوست نہیں اور آج سے میں