انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 295

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۵ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو کو۔اگر وہ کہہ دے کہ تم نے مال چوری نہیں کیا تو ہم مان لیں گے۔وہ وہاں پہنچتے اور مغلے سے کہتے تم گواہی دو کہ ہم نے ان کا مال نہیں چرایا۔وہ کہتے ہیں کیسے کہوں کہ تم نے مال نہیں چرایا کیا تم فلاں مال چرا کر نہیں لائے ؟ اُن کے بھائی کہتے۔کیا تم ہمارے بھائی ہو یا ان کے بھائی وہ کہتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تم میرے بھائی ہو لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں جھوٹی گواہی دوں۔وہ انہیں مارتے ، پیٹتے اور سمجھتے کہ اب مارکھا کر اسے عقل آگئی ہو گی لیکن وہ دوبارہ یہی کہہ دیتے کہ تم نے چوری کی ہے۔میاں مغلہ سُنایا کرتے تھے کہ جب کوئی چوری کا معاملہ میرے سامنے آتا تو میں خیال کرتا کہ اگر سچ بولا تو میرے بھائی اور دوسرے رشتہ دار مجھے ماریں گے اور اگر جھوٹ بولا تو گناہ گار ہو جاؤں گا اس لئے میں کہہ دیتا میں تو آپ کے نزدیک کافر ہوں پھر آپ میری گواہی کیوں لیتے ہیں؟ وہ کہتے تم کافر تو ہو لیکن بولتے سچ ہو۔پھر میں کہتا میرا اس معاملہ میں کیا واسطہ ہے؟ لیکن وہ میرا پیچھا نہ چھوڑتے۔میرے بھائی اور رشتہ دار مجھے چٹکیاں کاٹتے اور مجبور کرتے کہ میں جھوٹ بول دوں لیکن میں کہتا تم لائے تو تھے فلاں بھینس پھر میں جھوٹ کیسے بولوں۔نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ مجھے خوب مارتے۔وہ دوست تنگ آکر قادیان آگئے اور ایک احمدی انجینئر خان بہادر نعمت اللہ خاں صاحب مرحوم نے جنہوں نے ربوہ کے قریب دریائے چناب پر پل بنایا تھا انہیں ملازم کرا دیا۔غرض بعض ایسی عادات ہوتی ہیں جن کا ترک کرنا آسان نہیں ہوتا۔جس طرح جھنگ کے لوگوں میں چوری کی عادت ہے نو جوان بعض دفعہ جھوٹ کی پرواہ نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر جھوٹ بول لیا تو کیا ہوا۔حالانکہ جھوٹ فطرت کے خلاف ہے۔جھوٹ اس چیز کا نام ہے کہ کان سے جو کچھ سُنا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ میں نے نہیں سُنا۔آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جا ہے کہ میں نے نہیں دیکھا۔ہاتھ نے ایک چیز اٹھائی ہو لیکن انسان کہہ دے کہ میرے ہاتھ نے فلاں چیز نہیں اُٹھائی۔ایک شخص کے ؤں ایک طرف چلیں لیکن وہ کہہ دے کہ میرے پاؤں اس طرف نہیں چلے۔گویا انسان کسی غیر کی نہیں بلکہ اپنی تردید آپ کرتا ہے۔جو چیز اُس نے خود دیکھی ہے اُس کے متعلق