انوارالعلوم (جلد 22) — Page 6
انوار العلوم جلد ۲۲ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔مثلاً نزلہ کھانسی یا دمہ کی وجہ سے یا دمہ کو ضیق النفس بھی کہتے ہیں یعنی سانس کی تنگی۔تو نفس کے معنی اصل میں سانس کے ہوتے ہیں لیکن پھر نفس کے معنی سانس لینے والی چیز کے بھی بن گئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَآتِهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبِّكُمُ الّذي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةِ اے انسانو! مردو اور عورتو! اپنے خدا کو اپنے لئے ڈھال بنالو اور تمام خرابیوں اور فتنوں سے بچنے کے لئے اس کی پناہ لیا ج کرو جس نے تم کو ایک سانس لینے والے وجود سے یعنی ایک ہی قسم کی ہستی سے پیدا کیا ہے۔اب یہاں کسی مرد کا ذکر نہیں ، کسی عورت کا ذکر نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی قسم کی قوتیں اپنے اندر رکھتے ہیں کوئی علیحدہ علیحدہ چیز نہیں ہے۔وخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور پھر اس قسم کے اُس نے بہت سے جوڑے پیدا کئے ہیں۔خلق منھا کے معنی ہیں۔اس قسم کے جوڑے پیدا کئے ہیں۔یعنی ایک انسانی وجود شروع ہوا جس میں مرد بھی شامل تھا اور عورت بھی اور ان کے جذبات اور خواہش اور اُمنگیں ایک ہی قسم کی تھیں۔پھر آگے ان کی نئی نسل سے جو ہزاروں ہزاروں افراد پھیلے وہ بھی کوئی علیحدہ قسم کے نہیں تھے۔یہ نہیں کہ آدم کے وقت تو وہ ایک قسم کے تھے اور بعد کی نسلوں میں فرق پڑ گیا۔بعد کی نسلوں میں فرق نہیں پڑا بلکہ ان کے مرد اور عورتیں دونوں ایک ہی قسم کے جذبات رکھتے تھے۔وبثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء :- پھر اللہ تعالیٰ نے ان جوڑوں میں سے مرد و عورتیں بہت سی پھیلائیں۔یعنی مرد اپنی ماں اور اپنے باپ کا وارث تھا اور عورت اپنی ماں اور اپنے باپ کی وارث تھی۔جس طرح مرد نے اپنے باپ کے علاوہ ماں کے جذبات کا حصہ لیا اسی طرح عورت نے اپنی ماں کے علا وہ باپ کے جذبات کا حصہ لیا۔قرآن کریم کی امتیازی تعلیم یہ ایک اصول بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے جس میں اسلام کو باقی تمام مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے یہ بیان کیا ہو کہ عورت اور مرد کے جذبات اور احساسات اور اُمنگیں ایک ہی قسم کی ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ مرد اور قسم کے