انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 291

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۹۱ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو سیچ تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا۔عدالتوں میں پہلے یہ رواج تھا کہ گواہ کے ہاتھ میں قرآن کریم دے کر اُس سے قسم لیتے تھے اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ قرآن کریم میں جو وعید نازل ہوئے ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے میں قسم کھاتا ہوں اور اگر میری قسم جھوٹی ہو تو مذکورہ وعید اور سزائیں مجھے ملیں لیکن اِن گواہوں میں سے کئی ایسے ہوتے تھے جو قسم کھا کر بھی جھوٹ بولتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جو ہمارے بڑے بھائی تھے اور ای۔اے سی تھے وہ اپنا تجربہ سُنایا کرتے تھے کہ جتنا کوئی قرآن کریم ہاتھ میں لے کر جوش سے گواہی دیتا تھا میرے تجربہ میں اُتنا ہی وہ جھوٹا ہوتا تھا۔وہ ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو میرا اچھا واقف تھا اُس کا مقدمہ میرے سامنے پیش ہوا۔وہ کہنے لگا مجھے کوئی اور تاریخ دی جا ہے کیونکہ جو گواہ میں نے پیش کرنے تھے ، وہ فلاں فلاں وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔میں نے ہنس کر کہا میں تو تمہیں عقل مند اور ہوشیار آدمی خیال کرتا تھا لیکن اب میری طبیعت پر یہ اثر ہوا ہے کہ تم بے وقوف ہو۔وہ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا گواہوں کے لئے جگہ اور وقت کی کیا ضرورت ہے۔اگر تمہاری جیب میں کچھ ہے تو روپیہ ٹھٹی دے کر بعض آدمی گواہی کے لئے لے آؤ۔چنانچہ وہ باہر چلا گیا اور عملی طور پر تھوڑی دیر میں ہی کچھ گواہ لے آیا۔گواہی لیتے ہوئے میں ہنستا بھی جاؤں اور مذاق بھی کرتا جاؤں۔وہ لوگ قرآن کریم سر پر رکھ کر اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ واقعہ یوں ہوا ہے۔حالانکہ تھوڑی دیر ہوئی میں نے خود مدعی کو اس غرض کے لئے باہر بھیجا تھا کہ وہ کچھ دے دلا کر چند گواہ لے آئے۔جب وہ گواہی دے چکے تو میں نے انہیں پکڑا اور کہا تم بڑے کذاب ہو، تمہیں واقعہ کا علم ہی نہیں لیکن محض چند ٹکوں کی وجہ سے تم اتنا جھوٹ بول رہے ہو کہ قرآن کریم کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔اب جس قوم کی یہ حالت ہو اُس کا یہ کہنا کہ ہم کامیاب کیوں نہیں ہوتے بالکل غلط بات ہے۔دُنیا میں وہی قو میں جیتا کرتی ہیں جن میں صداقت ہوتی ہے۔میں عیسائی دُنیا کو دیکھتا ہوں کہ اُنہوں نے مشق کے ساتھ اپنے اندر سچائی کی اتنی عادت پیدا کر لی ہے کہ جہاں حکومت کی خاطر وہ ہر قسم کا جھوٹ بول لیتے