انوارالعلوم (جلد 22) — Page 4
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں بڑی مشکل یہ ہے کہ علاوہ گلے کے ماؤف ہونے کے آواز کے جو پردے ہیں وہ نزلہ کے اثر کے نیچے اس قدر ماؤف ہو چکے ہیں کہ میری آواز صاف بھی نہیں اور ایسی طرح نہیں نکلتی کہ میرے الفاظ اچھی طرح سمجھے جا سکتے ہوں۔انسانی پیدائش کی غرض قرآن کریم میں اللہ تعالی انسان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا ربِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا الله الذي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إن الله كَانَ عَلَيْكُم رقيبا لے یہ آیت بنی نوع انسان کی پیدائش کے واقعات کو اور اُس کی پیدائش کی غرض کو نہایت مختصر الفاظ میں بیان کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يايما النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي رَبِّكُمُ اے لوگو! تقومی کرو اپنے رب کا۔ناس عربی زبان میں اسی کو کہتے ہیں جس کو اُردو یا فارسی زبان میں آدمی کہتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جہاں عورتوں میں یہ بیداری پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اس بات کا مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کو بھی قومی اور دینی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے وہاں وہ ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ سکیں کہ وہ بھی آدمی ہیں۔ذرا کسی عورت سے کہو کہ تم آدمی ہو تو وہ کہے گی میں کیوں آدمی ہونے لگی آدمی ہوتے ہیں مرد۔حالانکہ آدمی کے معنی ہیں آدم کی اولاد اور جو آدمی کے معنی ہیں وہی نساس کے ہیں۔عربی زبان میں جب ناس کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔اسی طرح اردو میں جب آدمی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔جب ہم کہتے ہیں آدمی پر یہ فرائض عائد ہیں تو اس و کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ مردوں پر بھی یہ فرائض عائد ہیں اور عورتوں پر بھی یہ فرائض عائد ہیں۔اسی طرح عربی میں جب ہم کہتے ہیں ناس کا یہ حال ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مردوں کا بھی یہی حال ہے اور عورتوں کا بھی یہی حال ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ )