انوارالعلوم (جلد 22) — Page 260
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۰ سیر روحانی (۵) میں نے سنا کہ اس دربار عام میں یہ اعلان کیا جاتا ہے قُل مَن يُنَجِّيْكُمْ من ظُلمتِ البَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَيْن انْجِينَا مِن هذه لنَكُونَنَّ مِن السكرين قُلِ اللهُ يُنيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبِ ثُمَّ انْتُمْ تُشْرِكُون فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو دنیا میں اعلان کر اور لوگوں سے کہ کہ تمہارا خدا ہر مصیبت میں تمہاری مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔فرماتا ہے کون ہے جو تمہیں سمندر کی مصیبتوں اور خشکی کی مصیبتوں سے نجات دلاتا ہے؟ جب مصیبتیں آتی ہیں تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً تم روتے ہوئے دعائیں کرتے ہو کہ وہ کی مصیبتیں تم سے ٹل جائیں مگر چونکہ تم اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتے اس لئے تم دعا ئیں چوری چوری کرتے ہو ا ونچی آواز سے نہیں کرتے تا ایسا نہ ہو کہ تمہاری قوم یہ سمجھ لے کہ اب تم بیٹوں کو چھوڑ نے لگے ہو اور تم بار بار یہ کہتے ہو کہ حضور ! اب ہم کو چھوڑ دیجئے تو ہم تو حید پر ایسا عمل کریں گے اور آپ کی ایسی فرمانبرداری اور اطاعت کریں گے کہ آپ بھی ہم پر اقو ہو جاہیں گے۔فرماتا ہے قُلِ اللهُ يُنْجِيكُم مِّنْهَا وَ مِن كُلِّ كَرْبِ تُو کہہ دے کہ خدا تعالیٰ تم کو اس مصیبت سے بھی بچائے گا اور آئندہ آنے والی مصیبتوں سے بھی بچائے گا مگر تم نے بھی یہ بھی سوچا ہے کہ آج تو تم یہ کہ رہے ہو کہ ہم تو حید پر ایمان رکھیں نے مگر گل اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے بعد تم پھر شرک میں مبتلاء ہو جاؤ گے۔لوگ بعض دفعہ سچے دل سے تو بہ کرتے ہیں مگر پھر اپنے نفس کی کمزوری کی وجہ سے گناہوں میں ملوث ہو جاتے ہیں مگر یہاں اُن کی اِس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم آج تو تو بہ کرتے ہیں مگر گل جھوٹ بولنا شروع کر دیں گے۔آج تو ہم تو بہ کر رہے ہیں مگر کل پھر شرک میں ملوث ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ بھی اُن کی اِس حالت کو جانتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ منافقت سے کام لے رہے ہیں ، مگر اُس کا رحم بے انتہاء وسیع ہے وہ کہتا ہے اگر گل یہ شرک کریں گے تو دیکھا جائے گا اس وقت تو یہ تو بہ کر رہے ہیں چلو ان کو معاف کر دو۔کیا دنیا کی کوئی ایسی حکومت ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے مجرموں کو اس طرح معاف کر دے؟