انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 236

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۶ سیر روحانی (۵) میں ہے یہ في کتب مخنون ۵ ایک کتاب مکنون میں ہے یعنی اس کا ایک ورق تو یہ کھی ہوئی کتاب ہے اور اِس کا دوسرا ورق ہر انسان کی فطرت پر لکھا ہوا ہے۔گویا دو قرآن ہیں ایک قرآن فطرت انسانی میں ہے اور ایک قرآن اس کتاب میں ہے۔کوئی شخص ایسی چیز نہیں پیش کر سکتا جو قرآن کریم میں تو ہو مگر اس کا فطرتِ صحیحہ انکار کرتی ہو اور کوئی بات کی فطرتِ صحیحہ میں ایسی نہیں ہو سکتی جو قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔یہ دلیل ہے اس بات کی که قرآن کریم قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے کیونکہ جب یہ فطرت کے مطابق ہے تو جس طرح فطرت نہیں بدل سکتی اسی طرح قرآن کریم بھی بدل نہیں سکتا۔وہ لوگ جو قرآن کریم کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں ہمارا اُن سے یہ سوال ہے کہ کیا انسانی فطرت کبھی بدل سکتی ہے؟ اگر بدل نہیں سکتی تو پھر قرآن کریم بھی بدل نہیں سکتا۔گو یا صرف یہی نہیں کہ یہ کتاب اب تک نہیں بدلی بلکہ متشابہ کہہ کر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ کتاب کبھی بدل ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ فطرت کے مطابق ہے اور فطرت اس کے مطابق۔جب تک انسان کی فطرت صحیحہ قائم رہے گی یہ قرآن بھی قائم رہے گا۔سابق الہامی کتب کی تمام اعلیٰ دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ پہلی الہامی کتابوں کی اعلیٰ تعلیم کو پیش کرتا ہے گویا یہ تعلیمیں قرآن کریم میں جمع ہیں متشابہ ہے موسیٰ کی کتاب سے اور یہ متشابہ ہے زرتشت کی کتاب سے اور یہ متشابہہ ہے رام اور کرشن کی کتاب سے۔اَحْسَنَ الْحَدِيث میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن کریم میں اچھی سے اچھی اور بہتر سے بہتر باتیں بیان کی گئی ہیں اور متشابہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم سے پہلے جو الہامی کتب نازل ہو چکی ہیں ان تمام کتابوں کی اچھی سے اچھی اور بہتر سے بہتر باتیں اس میں موجود ہیں۔تو رات کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں، وید کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں، ژند اوستا کی اچھی باتیں اس میں موجود ہیں۔جب ساری اچھی باتیں اس میں موجود ہیں تو ہمیں اس بات کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ ہم دوسری کتابوں کی طرف رجوع