انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 235

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۵ سیر روحانی (۵) اسے اس نے طلاق کیوں نہ دیدی؟ اس پر وہ کہنے لگی کہ ایک کو اس نے اپنی بہن قرار دید یا تھا۔میں نے کہا کہ اس پر اوّل تو پھر وہی اعتراض ہے کہ جب وہ عالم الغیب تھا اور جانتا تھا کہ مجھے اسے بہن قرار دینا پڑے گا تو اس نے پہلے اسے بیوی کیوں بنایا ؟ لیکن اِس کو بھی جانے دو سوال یہ ہے کہ آیا بہن سے شادی تمہارے نزدیک جائز ہے؟ وہ کہنے لگی آپ تو گالیاں دیتے ہیں۔میں نے کہا اسی ایرانی بہن سے پوچھو۔اُس نے پہلے تو بڑا زور لگایا کہ کسی طرح وہ اس بحث میں نہ پڑے اور بار بار کہے کہ میرا اس سے کیا تعلق ہے میں تو یونہی آگئی تھی لیکن آخر میرے اصرار پر اُسے ماننا ہی پڑا کہ واقعہ میں بہاء اللہ کے ہاں اس سے اولا د بھی ہوئی ہے۔قیامت تک قائم رہنے والا لائحہ عمل غرض کہنے کو تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کس طرح مانیں کہ قرآن کریم منسوخ نہیں ہوسکتا جب کہ پہلی کتابیں ہمیشہ سے منسوخ ہوتی چلی آئی ہیں لیکن وہ کوئی ایسی بات بھی نہیں بتا سکتے جو دنیا کے لئے قابل عمل ہو اور قرآن کریم میں موجود نہ ہو یا قرآن کریم نے کوئی حکم دیا ہو اور اس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔تیرہ سو سال ہو چکے دُنیا اس کے کسی حکم کو قابل تبدیل قرار نہیں دے سکی اور آئندہ کے متعلق بھی ہم اسی پر قیاس کر کے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قیامت تک کے لئے ایک زندہ اور قائم رہنے والا لائحہ عمل ہے کیونکہ تیرہ سو سال کے گزرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ماً مور آیا اُس نے دنیا میں پھر یہ اعلان کر دیا کہ یہ کتاب قیامت تک قائم رہنے والی ہے اور اس کا قانون ایک اٹل صداقت ہے دنیا ہزاروں تغیرات میں سے گزرتی چلی جائے اس کا کوئی قانون بدل نہیں سکتا، اس کی کوئی حلیم تبدیل نہیں کی جاسکتی۔فطرتِ انسانی سے مطابقت رکھنے والی تعلیم پھر فرماتا ہے مُتَشَابِهَا اِس کامل کتاب کی ایک یہ بھی خوبی ہے کہ یہ متشابہہ ہے۔متشابہہ کے دو معنے ہیں جن میں سے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ فطرت کے متشابہہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو تمہارے ہاتھوں