انوارالعلوم (جلد 22) — Page 224
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۴ سیر روحانی (۵) کہ وہ ہماری بادشاہت کو مضبوط کرے گا بلکہ فرماتا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو خود قائم کریں گے اگر تم اس کی مخالفت کرو گے تو ہم تم پر عذاب نازل کریں گے کہ جس سے آسمان بھی پھٹنا شروع ہو جائے گا۔كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولاً دُنیوی بادشاہ ڈرتے ہیں کہ اگر ہماری مخالفت ہوئی تو ہم کیا کریں گے مگر یہاں فرماتا ہے کہ یہ وہ وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔زمین و آسمان کا فرق کتنا زمین و آسمان کا فرق اُس دیوانِ عام اور اس دیوانِ عام میں ہے وہاں بادشاہ یہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں اس لئے کہ وہ ہماری حکومت کو مستحکم کرے ، اس لئے کہ وہ ہماری طاقت کو مضبوط کرے، اس لئے کہ وہ ہماری جڑیں لگائے مگر یہاں دیوانِ عام میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ اے لوگو سنو ! ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا گورنر مقرر کر کے بھجواتے ہیں اگر تم اس کی فرمانبرداری نہیں کرو گے تو ہم خود اس کو طاقت بخشیں گے اور خود اس کو قوت بخشیں گے اور اگر اس کا مقابلہ کرو گے تو ہم تمہیں ایسی سزا دیں گے کہ زمین تو زمین آسمان کا کلیجہ بھی شق ہو جائے گا ( السّماءُ مُنفَطِر بی) اور کوئی طاقت نہیں جو ہمارا مقابلہ کر سکے۔قرآنی گورنر جنرل کا دائرہ حکومت اس کے ساتھ ہی یہ اعلان ہوتا ہے کہ گورنر ہے کس جگہ کے لئے؟ د نیوی گورنر مقر ر ہوتے ہیں تو ایک آدھ ملک کے لئے مگر فرما تا ہے کہ یہ گورنرسب دنیا کے لئے ہے گویا یہ گورنر نہیں بلکہ گورنر جنرلوں کے بھی اوپر گورنر جنرل ہے۔چنانچہ دربار عام میں اعلان ہوتا ہے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ الّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًات اے یہودی مذہب کے ماننے والو سنو ! یہ شخص جس کو ہم نے بھجوایا ہے موسیٰ کی طرح صرف مصر کے لوگوں کے لئے نہیں۔اے اسرائیلی انبیاء کے ماننے والو! یہ شخص صرف بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح کسی ایک قوم کی طرف نہیں۔اے مسیح کے ماننے والو سنو ! مسیح کی طرح فلسطین کی طرف نہیں۔اے کرشن اور رامچندر کے ماننے والو! یہ اس طرح نہیں