انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 223

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۳ سیر روحانی (۵) لیکن میں نے دیکھا کہ قرآن کریم جس دیوانِ عام کو پیش کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی گورنر یا خلیفہ اللہ کے تقرر کا اعلان ہوتا ہے تو بجائے یہ کہنے کے کہ ہم امید کرتے ہیں تم ہماری حکومت کو مستحکم کرو گے اور ہماری طاقت بڑھانے میں حصہ لو گے بادشاہ یہ کہتا ہے کہ ہم تمہیں طاقت دیں گے، ہم تمہیں مستحکم کریں گے، ہم تمہارے رُعب کو قائم کریں گے۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ پُرانے زمانہ کے بادشا ہوں کے مقابلہ میں قرآن کریم میں بھی ایک دیوانِ عام لگایا گیا اور تمام پبلک کو مخاطب کر کے کہا گیا اِنَّا ارسلنا اليكُمْ رَسُولاً، شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولان تعطى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَاخَذْنَهُ أَخَذَ او بِيلاً فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ ولا شيبان السَّمَاءُ مُنْفَطِرُ بِهِ ، كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولاً۔اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس دنیا میں ایک خلیفہ مقرر کر رہے ہیں اور اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً ہم تمہاری طرف ایک رسول بنا کر بھیج رہے ہیں شاهِدًا عليكم جو تم پر نگران رہے گا اور دیکھے گا کہ تم ہماری مرضی کے مطابق چلتے ہو یا نہیں۔كما أرسلنا إلى فرعون رَسُولاً اور یاد رکھو کہ ہمارا اس کو گورنر بنا کر بھیجنا کوئی نئی چیز نہیں بلکہ پہلے بھی ہم اپنے گورنر بھیجتے رہے ہیں اور لوگ غلطی سے ان کا انکار کرتے رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی وہی غلطی کرو اور اُس انجام کو دیکھو جو پہلے لوگوں نے دیکھا تعطى فرعون الرّسول اُس وقت کے حاکم اور بادشاہ فرعون نے تکبر کیا اور موسٹی کے ماننے سے اُس نے انکار کیا۔فَاخَذَ نَهُ آخَذَ او بیلا اس پر ہم نے اُس کو پکڑ کر تباہ و برباد کر دیا پس جس طرح ہم نے فرعون کو تباہ کیا ہے اگر تم ہمارے گورنر جنرل کی مخالفت کرو گے اور اس کے مقابلہ پر فرعون والا طریق اختیار کرو گے تو تم بھی تباہ کر دیئے جاؤ گے۔نَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الوان شيبان السَّمَاءُ مُنقَطِرُ بِهِ اگر تم نے بھی انکار کیا جس طرح فرعون نے موسیٰ کا انکار کیا تھا تو تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم ہمارے عذاب سے بچ جاؤ گے۔تم اُس دن سے ڈرو جو جوانوں کو بوڑھا کر دے گا۔وہ دُنیوی بادشاہوں کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہم اپنے گورنر سے یہ امید کرتے ہیں