انوارالعلوم (جلد 22) — Page 222
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲۲ سیر روحانی (۵) میں نے دیکھا کہ وہ دیوانِ عام جو دنیوی دیوان عام اغیار کے قبضہ میں بادشاہوں کا بنایا ہوا تھا وہ اب ویران اور برباد ہے اس کی عمارت موجود تھی مگر انگریزوں کے قبضہ میں تھی۔خودان بادشاہوں کی اولاد موجود تھی مگر اسے ٹکٹ حاصل کئے بغیر دیوانِ عام کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ تھی وہ مارے مارے پھر رہے تھے اور کوئی انہیں پوچھتا تک نہیں تھا۔اب بھی بعض شہزادے ایسے ہیں جو نہایت تکلیف کے ساتھ اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں حکومت موجود ہے مگر وہ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی۔قرآنی دیوان عام کی خصوصیت اس میں نے سوچا کہ آیا اس کے مقابلہ میں پس قرآن کریم نے بھی کوئی دیوانِ عام پیش کیا ہے یا نہیں ؟ اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے؟ جب اس نقطہ نگاہ سے میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے خدا نے بھی ایک دیوانِ عام بنایا ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کوئی دشمن اس پر قبضہ نہیں کر سکتا وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے اور اسی کے قبضہ اور تصرف میں ہے۔پہلے بادشاہوں کے دیوانِ عام ان کے ہاتھوں سے چھینے گئے ، غیر تو میں آئیں اور ان پر قابض ہو گئیں پہلے یہ دیوان عام انگریزوں کے پاس گئے اور اب ہندو حکومت قائم ہوئی تو اس کے پاس چلے گئے۔گویا جن مزدوروں نے یہ دیوانِ عام بنایا تھا وہ اب حاکم ہیں اور حاکم مزدور۔لیکن قرآن کریم جس دیوان عام کو پیش کرتا ہے اس میں نہ کوئی تبدیلی کر سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی مخالفانہ قبضہ کر سکتا ہے۔محمد رسول اللہ کے تقرر پر پھر میں نے دیکھا کہ مغل بادشاہ اور پٹھان بادشاہ اور دوسرے بادشاہ جب دیوانِ عام قرآنی دیوان عام سے اعلان میں بیٹھتے تو وہ مثلاً یہ اعلان کرتے کہ ہم فلاں کو وزیر مقرر کرتے ہیں، فلاں کو گورنر مقرر کرتے ہیں، فلاں کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں کہ اور پھر ساتھ ہی یہ کہتے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ وفاداری سے حکومت کی خدمت بجالائے گا اور ہماری حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اپنا تمام زور صرف کر دیگا