انوارالعلوم (جلد 22) — Page 214
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۴ سیر روحانی (۵) میرے اس مضمون کا محرک ہوا۔میں نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں بیان کیا تھا میں اُس جگہ پر پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور پہلے تو اس عبرت ناک نظارہ پر غور کرتا رہا کہ یہ بلند ترین عمارت جو دہلی پر بطور پہرہ دار کھڑی ہے اس کے بنانے والے کہاں چلے گئے۔وہ کس قدر اولوالعزم، کس قدر با ہمت اور کس قدر طاقت وقوت رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوں نے ایسی یادگاریں قائم کیں۔وہ کس شان کے ساتھ ہندوستان میں آئے اور کس شان کے ساتھ مرے مگر آج ان کی اولادوں کا کیا حال ہے۔کوئی ان میں سے بڑھتی ہے، کوئی لوہار ہے، کوئی معمار ہے، کوئی موچی ہے اور کوئی میراثی ہے۔میں انہی خیالات میں تھا کہ میرے خیالات میرے قابو سے باہر نکل گئے اور میں کہیں کا جا پہنچا۔سب عجائبات سفر جو سفر میں میں نے دیکھے تھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔دہلی کا یہ وسیع نظارہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا اور آگرہ اور حیدرآباد اور سمندر کے نظارے ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے آخر وہ سب ایک اور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے۔میں اسی محویت کے عالم میں کھڑا رہا اور کھڑا رہا اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اس کو کیا ہو گیا یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی کہ ابا جان دیر ہو گئی ہے۔میں اس آواز کو سنکر پھر واپس اسی مادی دنیا میں آ گیا مگر میرا دل اُس وقت رقت انگیز جذبات سے پُر تھا۔نہیں وہ خون ہو رہا تھا اور خون کے قطرے اس سے ٹپک رہے تھے مگر اس زخم میں ایک لذت بھی تھی اور وہ غم سرور سے ملا ہو ا تھا۔میں نے افسوس سے اس دنیا کو دیکھا اور کہا کہ ”میں نے پالیا میں نے پالیا۔جب میں نے کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا تو اُس وقت میری وہی کیفیت تھی جس طرح آج سے دو ہزار سال پہلے گیا کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے گوتم بدھ کی تھی جبکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال حاصل کرنے کے لئے بیٹھا اور بیٹھا رہا اور بیٹھا رہا یہاں تک کہ بدھ مذہب کی روایات میں لکھا ہے کہ بانس کا درخت اُس کے نیچے سے نکلا اور اُس کے سر کے پار ہو گیا مگر محویت کی وجہ سے اُس کو کچھ پتہ نہ چلا۔یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں لوگوں نے بنا لیا