انوارالعلوم (جلد 22) — Page xxiv
۱۹ ہو گئے۔کیونکہ آدم کا کام اور اور فرشتوں کا کام الگ۔آدم انسانی تجلی کے ظہور کے قابل پایا جاتا ہے جبکہ فرشتوں کی تجلیات اور ہیں۔کسی میں دخل اندازی نہیں۔قرآن کریم میں ایک اور دربارِ خاص کا ذکر بھی ملتا ہے جس میں حضرت محمد رسول اللہ کو روحانی آدم کا درجہ دے کر گورنر مقرر کر دیا جاتا ہے حضور نے فرمایا کہ آدم ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ علیہ ایسے آدم ہیں جن سے روحانی نسل کا آغاز ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس زمانہ کے آدم ہیں۔ان کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک رسائی ہوتی ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں آکر خدا تعالیٰ سے ملاپ ہوتا ہے۔یہ روحانی دربار، ڈ نیوی در باروں سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ دَنَا فَتَدَلی کے تحت یہ آدم خدا کی طرف بڑھتا ہے اور خدا اس کی عزت افزائی کے لئے نیچے اُترتا ہے۔حضور نے نہایت گہرائی میں دنیوی دربارِ خاص کا مختلف پہلوؤں سے اس روحانی در بارِ خاص سے موازنہ فرما کر اس کو اعلیٰ ، ارفع اور اکمل قرار دیا ہے اور اس دربار کے گورنر کو ملاء اعلیٰ سے ملنے والے حکم يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرُ کی غیروں کے مقابل پر لطیف تفسیر بیان فرمائی۔اور ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ کے تحت اسلام میں صاف ستھرا رہنے کی تعلیم کو حکمتوں کے ساتھ بیان فرمایا۔تیسری غرض کے تحت ملاء اعلیٰ سے اپنے گورنر کی حفاظت کے حوالے سے جو تدابیر بروئے کار لائی جاتی ہیں اُن کا نہ صرف ذکر فرمایا بلکہ اس حکومت کو دائمی قرار دیا جبکہ دنیوی حکومتیں یا منصب عارضی ہوتے ہیں۔چوتھی اور آخری غرض دُنیا وی دیوان خاص کی یہ بیان فرمائی تھی کہ انعامات اور القابات سے نوازا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اِس روحانی دربار میں گورنر کے ذریعہ درباریوں کو لا زوال القابات سے نوازتا ہے رَضِيَ الله عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے القابات کا ذکر فرما کر صحابہ کرام کی بے مثال تاریخی قربانیوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔لیکچر کے آخر میں حضور نے اس خدائی دربارِ خاص کے گورنر مقرر ہونے کی چار اغراض قرآن کریم سے بیان فرمائیں۔تلاوت قرآن ، تعلیم الکتاب تعلیم حکمت اور تزکیۂ نفس۔