انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xxiii

۱۸ بادشاہوں کے دیوانِ خاص کے مقابلہ پر روحانی دیوانِ خاص یعنی خدائی دربار کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ محلات میں دیوانِ عام کے علاوہ دیوانِ خاص بھی ہوتے ہیں جن کے قیام کی چارا غراض ہو ا کرتی تھیں۔ا - بادشاہ کا اپنے وزراء کو خاص موقع دینا اور اُن کی تقرریاں یا اُن کو برطرف کرنا۔بادشاہ کا اُن سے خاص امور پر مشورہ کرنا یا احکام صادر کرنا۔اپنی مشکلات میں اُن سے مدد لینا یا اُن کی مشکلات دور کرنے کے لئے وعدے کرنا۔۲- -۴- ان کے اچھے کام پر انعام واکرام دینا اور بُرے کاموں پر سرزنش دنیوی دربارِ خاص میں وزراء یا بادشاہ کو چاہنے والوں کی قربانیوں کے باوجود بادشاہ کا دل اپنی بیوی اور اپنی اولاد کی طرف اٹکا رہتا ہے اور ہمیشہ اُن کو نوازتا ہے کیونکہ تخت کا وارث ہمیشہ بیٹا ہی ہوتا ہے لیکن روحانی دربارِ خاص میں اس اللہ کی نہ بیوی ہے نہ اولاد۔جہاں تو حید کے قیام اور شرک سے نفرت کی تعلیم دی گئی ہے۔دُنیوی بادشا ہوں میں تو لوگ عزیز رشتہ دار اس کی موت کے بھی متمنی ہو جاتے ہیں لیکن یہاں کا بادشاہ حی و قیوم ہے۔پھر دنیوی بادشاہوں کو خوش کرنے کے لئے درباری اس کے سامنے قصیدے پڑھتے ہیں اور بعد میں چغلی لیکن یہاں ہر وقت ہر جگہ اس کی تعریف ہی تعریف ہے۔وہاں ایک انعام سے نواز کر بادشاہ ناراض ہو کر انعام کو واپس بھی لے لیتے ہیں لیکن یہاں جو انعام پیغمبری ایک دفعہ مل جائے وہ واپس نہیں لیا جاتا۔اس کے انعامات غیر متبدل ہیں۔پھر دُنیوی دربارِ خاص میں درباریوں میں با ہم رقابتیں پائی جاتی ہیں، بغض اور کینے پائے جاتے ہیں مگر یہاں تمام کی عزت برابر ہوتی ہے۔کسی یہودی نے اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت محمد ﷺ پر فضیلت دے دی تو خدا کا مقرر کردہ گورنر کہہ دیتا ہے لا تُفَضِلُونِي عَلى يُونُسَ کہ مجھے یوسف پر فضیلت نہ دو۔پھر کوئی جھگڑا نہیں، کوئی تکرار نہیں ، اگر تجلیات الہیہ کے ظہور کے لئے حضرت آدم علیہ السلام کو مقرر کر دیا اُس کو اُس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کر دیا تو فرشتے سوال کا جواب پا کر تسلی پاگئے اور خاموش