انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 178

انوار العلوم جلد ۲۲ KA متفرق امور کی علامت ہے؟ - پھر احرار کہتے ہیں کہ کشمیر کے معاملہ میں احمدیوں نے ملک سے غداری کی ہے چنانچہ لا ہور میں ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے سردار آفتاب احمد خاں صاحب جنرل سیکرٹری مسلم کشمیر کا نفرنس نے کہا احمدیوں نے غداری کے طور پر کشمیر کے محاذ پر فرقان فورس بھیجی ہے۔یہ لوگ خفیہ خبریں ہندوستان تک پہنچاتے ہیں اور دشمن کے ہوائی جہاز ان سے فائدہ اُٹھا کر پاکستانی فوج کی پوزیشنوں پر حملہ کرتے ہیں۔یہ بیان پنجاب کے مشہور اخبارات میں چھپا۔ہم نے اس کے خلاف حکومت کے پاس شکایت کی کہ ہم تو ملک کی خدمت کر رہے ہیں اور اس خدمت کا ہمیں یہ صلہ ملا ہے کہ ہمیں قوم کا غدار کہا جا رہا ہے۔اگر ہم واقعی غدار ہیں تو آپ نے ہمیں دو سال تک محاذ پر کیوں بٹھائے رکھا۔اگر ہم غدار تھے اور سزا کے مستحق تھے تو کیوں قوم نے ہمیں گولیوں کا مستحق نہ بنادیا؟ اگر اس نے ہمیں نہیں مارا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ملک کے غدار نہیں۔چنانچہ تحقیقات ہوئی اور حکومت کی طرف سے سردار آفتاب احمد صاحب کو کہا گیا کہ وہ اپنے اس بیان کی تردید کرے، کشمیر منسٹری کی طرف سے ایک مسودہ تیار کیا گیا اور وہ کراچی بھیجا گیا کہ سردار صاحب ان الفاظ میں اپنے بیان کی تردید کریں گے لیکن ہؤا کیا ؟ سردار آفتاب احمد صاحب کا بیان تو ملک کے کئی مشہور اخبارات میں شائع ہو الیکن اسکی تردید را ولپنڈی کے ایک قلیل الاشاعت اخبار تعمیر مؤرخہ ۸/ جون۱۹۵۰ء میں کی گئی اور وہ بھی اُن الفاظ میں نہیں کی گئی جن الفاظ میں تردید کرنے کے متعلق حکومت کو اطلاع دی گئی تھی جو مسودہ کراچی بھیجا گیا وہ یہ ہے: گزشتہ دنوں اپنی ایک تقریر میں میں نے فرقان بٹالین کے کام اور رویہ کے متعلق نکتہ چینی کی تھی جس کا اقتباس ایک اخبار میں شائع ہو گیا۔جب میری توجہ اس جانب دلائی گئی اور میں نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ جن اطلاعات کی بناء پر میں نے اعتراضات کئے تھے وہ صحیح نہیں تھیں۔مجھے افسوس ہے کہ یہ غلطی ان رضا کاروں میں سے بعض