انوارالعلوم (جلد 22) — Page 175
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۷۵ متفرق امور انگریزوں کے ایجنٹ ہوتے تو ہنری مارٹن کلارک ہماری مدد کرتا لیکن اس نے ہماری مخالفت کی اور اس کی تائید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کی ۔ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا میں بھی یہی کہوں گا کہ مرزا صاحب نے مسمی عبدالحمید کو آپ کے قتل کیلئے بھیجا تھا ۔ سر ڈگلس جب گورداسپور آیا تو پادری نے اسے بار بار کہا کہ مرزا غلام احمد ( علیہ السلام ) ہمارے دین کی ہتک کرتا ہے اِسے کسی نہ کسی طرح ضرور سزاملنی چاہئے ۔ مسٹر ڈگلس اب بھی زندہ ہے ۔ اسکی عمر ۸۰ سال ہے اور ہمارے لندن مشن میں آتا رہتا ہے۔ امرتسر کے ڈسی اے ای مارٹینو نے اُسے لکھا کہ میں نے غلطی سے مرزا غلام محمد صاحب قادیانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں میں اس معاملہ کو آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ آپ چاہیں تو انہیں گرفتار کر لیں اور چاہیں تو نہ کریں ۔ انگریز آفیسر عموماً اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیتے ہیں ۔ اُس نے دوسرے افسروں کو بُلا کر مشورہ لیا۔ مسلمان افسروں نے کہا مرزا غلام احمد صاحب مذہبی آدمی ہیں اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں یہ مناسب نہیں کہ ان کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا جائے ۔ اگر انہیں بلانا ضروری ہے تو کوئی آدمی بھیج کر اُنہیں بُلا لیا جائے ۔ اُس نے یہ مشورہ مان لیا اور پولیس کے ایک افسر جلال الدین کو قادیان بھیجا تا کہ وہ حضرت مسیح موعود کو بُلا لائے ۔ جب آپ عدالت میں پیش ہوئے تو آپ کو دیکھتے ہی اُس کے دل کی کایا پلٹ گئی اور اُس نے عدالت کے چبوترے پر گرسی بچھا کر آپ کو بٹھایا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تو اس بات کے حریص تھے کہ آپ کو ہتھکڑی لگی ہوئی دیکھیں ۔ ان کا خیال تھا کہ مقدمہ کرنے والا انگریز ہے فیصلہ کرنے والا انگریز ہے اور میں اہلحدیث کا ایڈووکیٹ بطور گواہ جا رہا ہوں اب تو مرزا صاحب کو ضرور پھانسی کی سزا ہوگی ۔ وہ اُس دن ایک بڑا اجتبہ پہن کر عالمانہ شان میں آئے اور سمجھتے تھے کہ مرزا صاحب کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہوں گی اور میں انہیں دیکھ کر مسکراؤں گا ۔ مگر جب عدالت میں آئے تو حضرت مسیح موعود کو بجائے ہتھکڑی لگنے کے اعزاز کے ساتھ مجسٹریٹ کے پاس گرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ مولوی صاحب آپ کا یہ اعزاز دیکھ کر جل گئے ۔ ( یہ مولوی جو