انوارالعلوم (جلد 22) — Page 172
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۷۲ متفرق امور کو کھڑا انگریزوں نے کیا مگر اسے کہا یہ کہ تم کہو عیسی مر گیا ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم احمق ہیں انگریز بھی ویسے ہی احمق ہیں جو حکومت اربوں روپیہ عیسائیت کی اشاعت کیلئے خرچ کر رہی ہے۔جس کی بنیاد ہی مسیح کی اگو ہیت پر ہے، جس کے پادریوں میں اتنی طاقت ہے کہ انکی مخالفت کی وجہ سے ایک بادشاہ بھی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے کیا اُس نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کیلئے یہی کہلوانا تھا کہ عیسی مر گیا ہے۔جس وقت ہم کچھ بھی نہ تھے اُس وقت انگریز اتنا خطرناک حربہ چلا کر پہلے کیا فائدہ اُٹھا سکتا تھا۔آج تو اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم اتنی قلیل تعداد میں ہیں کہ تم خیال کرتے ہو کہ چاہیں تو ہم سب کو ایک رات میں ہلاک کر دیں۔پھر وہ کون سی طاقت تھی جس سے انگریز اُس وقت فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا جب ہم موجودہ حالات سے کئی گنا کمزور تھے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جب سیالکوٹ میں تقریر ہوئی تو علماء نے آپ پر کفر کے فتوئے لگائے اور ان میں سب سے پیش پیش پیر جماعت علی صاحب تھے۔ڈھنڈورے پیٹے گئے اور اشتہاروں اور اعلانوں کے ذریعہ یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ جو شخص مرزا صاحب کی تقریر سننے جائے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔آپ کی تقریر ایک سرائے میں ہوئی تھی۔لوگ باوجود ان فتوؤں کے تقریر سننے کیلئے گئے۔مولوی اشتہار بانٹتے تھے اور لوگوں کو پکڑ پکڑ کر کہتے تھے کہ دیکھو اس میں کیا لکھا ہے تو لوگ یہ کہہ کر آگے چلے جاتے کہ نکاح کا کیا ہے نکاح تو پھر دوبارہ کسی مولوی کو سوا روپیہ دے کر پڑھا لیں گے لیکن مرزا صاحب شاید دوبارہ یہاں نہ آئیں۔جب تقریر شروع ہوئی تو بعض لوگوں نے شور مچا دیا۔اُن دنوں سیالکوٹ میں ایک انگریز لیفٹینٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس تھا جس کا نام Beltis تھا وہ دیوار پر چڑھ گیا اور اُس نے کہا مسلمانو! تم بہت بے وقوف ہو یہ ہمارے خدا کو مار رہا ہے لیکن میں خاموش کھڑا تقریر سن رہا ہوں اور تمہارے مذہب کو چلا رہا ہوں اور تم شور مچارہے ہو۔مثل مشہور ہے کہ میں نے کیا تیری ماں ماری ہے، ہم نے عیسائیوں کا خدا مار دیا لیکن پھر ہم انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور یہ لوگ ان کے خدا کو زندہ آسمان پر بٹھائے ہوئے ہیں اور پھر بھی انکے مخالف ہیں مَا شَاءَ اللہ کتنی عقل کی بات ہے۔