انوارالعلوم (جلد 22) — Page 170
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۷۰ جماعت احمدیہ کی مخالفت کیوں کی تھی کہ مرزا صاحب انگریزوں کے خلاف ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا جو غالبا ۱۸۹۳ء میں ہوا اُس کے الفاظ یہ ہیں۔سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔بعد ازاں ایام ضعف و اختلال، ۳ بعض کے روایات میں ایام ضعف و اختلال“ کے الفاظ بھی آتے ہیں لیکن مجھے یہ الہام اسی طرح یاد ہے۔جب یہ الہام ہوا تو بعض مصلحتوں کی بناء پر اسے شائع نہ کیا گیا لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہر وقت اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ کوئی قابلِ اعتراض بات مل جائے۔انہوں نے یہ الہام کسی احمدی سے سُن لیا اور فوراً مضمون لکھا کہ کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ شخص ( حضرت مسیح موعود ) حکومت کا باغی ہے۔اب اسے یہ الہام بھی ہونے لگا ہے کہ حکومت برطانیہ صرف چند سال تک ہی ہے۔اگر حضرت مسیح موعود فی الواقعہ انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور جماعت احمد یہ انگریزوں کی قائم کردہ ہے تو آپ کو انگریزوں کے خلاف الہامات کیوں ہوئے؟ یہ تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو انگریزوں نے قائم کیا مگر کیا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ انہی کے خلاف اپنے الہامات شائع کریں اور پھر وہ پورے بھی ہو جائیں۔آپ کو الہام ۱۸۹۳ ء میں ہوا اور ۱۹۰۰ ء کے بعد سے انگریزوں کی حکومت میں ضعف و اختلال شروع ہو گیا۔ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئی اور آہستہ آہستہ کینیڈا، آسٹریلیا اور ہندوستان میں بیداری پیدا ہوئی اور اُنہوں نے آزادی حاصل کر لی۔پس یہ چیز عقلی طور پر محال ہے کہ حضرت مسیح موعود کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے۔اگر آپ کو انگریزوں نے قائم کیا تھا تو چاہیے تھا کہ وہ آپ کو ایسی باتیں سکھاتے جو اُنکی تائید کرنے والی ہوتیں کیونکہ جہاں یہ لوگ سیاست میں بڑھے ہوئے ہیں وہاں یہ مذہبی تعصب میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔پرنس آف ویلز کا ایک عورت سے تعلق تھا وہ با قاعدہ سب مجلسوں میں آتی تھی وہ بادشاہ کے گھر میں ٹھہر تی تھی۔دعوتوں اور ناچ گانوں میں شامل ہوتی تھی اور ان محفلوں میں سب وزراء بھی شامل ہوتے تھے لیکن کسی وزیر نے میل جول پر اعتراض نہیں کیا۔مسٹر بالڈو نہ جس نے بعد میں اعتراض کیا وہ کئی دفعہ ان ناچ گانوں میں شامل ہو چکا تھا جس میں یہ عورت پرنس آف ویلز کے ساتھ