انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 169

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۹ متفرق امور طرف توجہ کریں۔ایک صوبہ کے گورنر نے ایک بڑے شہر میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ احمدی بھائی مجھے معاف کریں اگر میں یہ کہوں کہ انگریزوں کی عادت تفرقہ ڈال کر حکومت کرنا تھی اور اپنی اسی عادت کے مطابق انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے احمدیوں کو کھڑا کیا اور بہائیوں کو روس نے کھڑا کیا۔وہ گورنر احمدیوں کا ملنے والا ہے لیکن مخالفت سے وہ بھی متاثر ہو گیا۔اگر افسروں پر یہ اثر غالب ہو کہ ہم انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تو ان سے انصاف کی بہت کم امید ہوسکتی ہے۔مجھے تعجب آتا ہے که تعلیم یافتہ آدمی بلا تحقیق کس طرح ایک رائے قائم کر سکتا ہے۔آخر جو لوگ بڑے عہدوں پر پہنچے ہیں وہ بڑے تجربہ کے بعد پہنچے ہیں لیکن عجیب بات یہ کہ جب ہمارا معاملہ آتا ہے تو وہ ایک فریق کی بات سُن کر متاثر ہو جاتے ہیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری مخالفت کا ان کے دماغ پر اتنا اثر پڑا ہے کہ اب وہ کسی تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ اگر وہ سوچتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہی مولوی پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم انگریزوں کے خلاف ہیں۔علماء کی کتابیں موجود ہیں۔ان میں صاف لکھا ہے کہ انگریزی حکومت کو فکر کرنی چاہئے۔مرزا صاحب حکومت کے باغی ہیں اگر ابھی اس کی اصلاح نہ کی گئی تو کسی وقت حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔حضرت مسیح موعود کے دعوئی کے پانچ سات سال بعد کی کتب میں جو مخالف علماء کی طرف سے لکھی گئی تھیں یہ نظر نہیں آتا کہ مرزا صاحب انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔بلکہ ساری کتب میں یہ لکھا ہے کہ مرزا صاحب حکومت کے مخالف اور اس کے باغی ہیں۔لیکن اب احراری علماء یہ کہہ رہے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔اگر یہ لوگ علم کی بناء پر ہماری مخالفت کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ یا تو اس وقت کے علماء جھوٹے تھے یا موجودہ علماء جھوٹ بول رہے ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب اور لدھیانے والے مولویوں کی کتابیں موجود ہیں اُن میں صاف لکھا ہے کہ مرزا صاحب حکومت کے باغی ہیں۔ان باتوں کے ہوتے ہوئے ایک عقل مند دیانت دار اور تجربہ کار افسر دھوکا میں کس طرح آسکتا ہے۔یہی لوگ جو اب کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں انہوں نے دعویٰ کے پہلے آٹھ دس سال میں یہ کہہ کر