انوارالعلوم (جلد 22) — Page 168
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۸ متفرق امور ہمیشہ قائم رہے گا اور جب ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام کے تنزل کے دور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ایک غلام اسے دوبارہ دنیا میں قائم کرے گا اس کے احیاء کیلئے باہر سے کوئی نبی نہیں آئے گا تو کوئی شخص یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ یہ فرقہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے یہ تو واقعاتی لحاظ سے محال ہے لیکن دوسری طرف یہ عقلی طور پر بھی محال ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور غلام بھی کہتے ہوں اور پھر وہ آپ کی ہتک بھی کرتے ہوں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص یہ کہے کہ میں افلاطون کا شاگر دہوں اور پھر کہے کہ افلاطون بڑا جاہل ہے۔اگر وہ واقعی افلاطون کا شاگر د ہے تو وہ اُسکی تعریف کرے گا مذمت نہیں کرے گا۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد اور غلام کہتے ہیں تو وہ آپ کی تعریف ہی کریں گے مذمت نہیں کریں گے ورنہ وہ اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگر د کیسے کہہ سکتے ہیں۔پھر کسی جگہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم انگریزوں کے خوشامدی ہیں چنانچہ راولپنڈی میں تقریر کرتے ہوئے بڑے فخر سے اس چیز کو پیش کیا گیا کہ میں نے فلاں کمشنر کو بہکایا اور بعض حوالجات بھی دکھائے جس پر وہ احمدیوں کے خلاف ہو گئے۔میں نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ یہ درست ہے۔اُس کے خیالات ہمارے متعلق پہلے ہمدردانہ تھے لیکن اب وہ مخالف ہے۔اسی طرح ایک ریلوے افیسر کو بھی یہ بات کہی گئی وہ ایک احمدی کے پاس آیا اور اُس نے کہا میں پہلے آپ لوگوں کے خلاف نہیں تھا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ تو انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔غرض افسروں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اس مخالفت سے متاثر ہو گیا ہے۔میں نے درد صاحب کو ایک ضروری کام کیلئے کراچی بھیجا۔وہاں انہیں پاکستان سیکریٹریٹ کے ایک انڈرسیکرٹری ملے وہ احمدیوں کے ممنونِ احسان تھے۔ایک احمدی دوست نے انہیں تعلیم دلوائی تھی۔انہوں نے درد صاحب سے کہا کہ لوگوں میں آپ کی مخالفت عام ہو رہی ہے اور یہ میں صرف آپ کے فائدہ کیلئے کہتا ہوں کہ آپ اس