انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 156

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۶ متفرق امور ماہر آنے چاہئیں یا وہ مبلغ آنے چاہئیں جو تبلیغ کے لئے مغربی ممالک میں گئے اور اُن پر اس قسم کے اعتراضات ہوئے یہ گنہ تو مغربی ممالک کی نکالی ہوئی ہے تم اگر مسلمان کو کہو گے کہ اسلام نے ایسا کیوں کہا ہے تو وہ کہے گا ایسا کہنے والا کافر ہے۔اسلام نے ایسا کیوں کہا ہے ؟ یہ اعتراض مغربی ممالک کی طرف سے کیا گیا ہے اس لئے جو مبلغ مغربی ممالک میں رہ چکے ہیں وہ ان باتوں کو بیان کر سکتے ہیں اور جو مبلغ مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے نہیں گئے اور اُن پر اس قسم کے اعتراضات نہیں ہوئے وہ اس مضمون کو بیان نہیں کر سکتے۔پر دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ربوہ میں زمینوں کے ایک بڑے حصہ حکومت کی ہدایات کے ماتحت نشاندہی ہوچکی ہے۔اس لئے جن دوستوں نے زمین خریدی ہوئی ہے انہیں چاہتے کہ وہ جلد سے جلد مکان بنانا شروع کر دیں۔اگر مکان بن جائیں تو ہمیں جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی سہولت ہوسکتی ہے۔۳۰ ہزار روپیہ خرچ کر کے بیرکس بنوائی گئی ہیں اور وہ بھی یونہی اینٹوں کو کھڑا کر دیا گیا ہے اور پھر اینٹیں بھی سُوکھی نہیں۔بیرکوں کی یہ حالت ہے کہ اُن میں آدمی سو بھی نہیں سکتے۔اگر لوگوں نے مکان بنائے ہوتے تو بہت سے لوگ ان مکانوں میں رہ سکتے تھے۔بہر حال جن لوگوں نے زمین خریدی ہوئی ہے انہیں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد مکان بنائیں۔نظامت جائداد کا کام ہے کہ وہ جلد مینٹیں تیار کروائے۔بعض لوگوں کی خواہش بھی ہے کہ وہ جلدی مکان بنوائیں لیکن انہیں اینٹیں نہیں مل رہیں۔میرے نزدیک اس دقت کو دیکھتے ہوئے شروع شروع میں مکان بنانے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ صرف باہر کی دیواریں پکی بنالیں اور اندر کی دیوار کچی رکھیں اس طرح پکی اینٹوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔بڑے بڑے شہروں میں بھی پکی اینٹ میٹر نہیں آرہی۔یہاں تو صرف ایک سال ہوا کہ ہم آکر بسے ہیں۔ایک وجہ اینٹ تیار نہ ہونے کی یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کے سپر د بھٹہ کا کام کیا گیا تھا وہ نا تجربہ کار تھے اُنہوں نے سال میں صرف دو بھٹے نکالے ہیں اور میں نے تجربہ کاروں سے سُنا۔کہ کوشش کی جائے تو سال میں گیارہ بھٹے نکل سکتے ہیں۔