انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 140

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۴۰ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو جو قرآن کریم کا ترجمہ جانتی اور دوسروں کو پڑھا سکتی ہے۔سینکڑوں عورت ایسی ہے جو حد یث کا ترجمہ جانتی اور دوسروں کو پڑھا سکتی ہے لیکن باوجود اس تعلیم کے تم نے اپنی ذمہ داری کبھی کبھی ہی نہیں۔تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ مردوں کا کام ہے حالانکہ پھنسی ہوئی کشتی اور پھنسی ہوئی گاڑی بغیر دونوں طرف چپو چلانے کے اور بغیر دونوں بیلوں کے زور لگانے کے نہیں نکل سکتی۔ہماری کشتی بھی اس وقت بھنور میں پھنسی ہوئی ہے جب تک دونوں چیو نہیں چلائیں گے مرد بھی اور عورت بھی اور جب تک اس گاڑی کو مرد بھی نہیں کھینچیں گے اور عورتیں بھی اُس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس میں لجنہ اماءاللہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ایک کورس جاری کریں جس میں وہ تمام مسائل آجائیں جو بالعموم ہمیں پیش آتے ہیں اور پھر جیسے خدام کا پندرہ روزہ تربیتی کورس ہوتا ہے اسی طرح عورتوں میں تحریک کی جائے کہ مختلف مقامات سے اس غرض کے لئے احمدی عورتیں آئیں اور دینی مسائل سیکھیں۔یہاں آنے پر ان کو مختلف مسائل کے متعلق نوٹ لکھوائے جائیں۔سوال و جواب کے ذریعہ ان کی معلومات کو بڑھایا جائے اور ان کے سامنے ایسی تقریریں کی جائیں جو ان کی عملی استعداد میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ہمیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم عورتوں کی تعلیم کو اور زیادہ وسیع کریں۔اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو اور بھی اعلیٰ درجے کی تعلیم دلائیں اس کے لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس سال یعنی ۱۹۵۱ء میں یہاں زنانہ کالج قائم کر دیا جائے۔جگہ ہم نے تجویز کر دی ہے۔میری بیوی اُم متین مریم صدیقہ جو ایم ، اے ہیں وہ اس کی نگران ہو سکتی ہیں۔فرخندہ بیگم بی ، اے۔بی ، ٹی ہیں وہ اب جلدی ہی ایم اے کر لیں گیں وہ پروفیسر مقرر ہوں گی۔اسی طرح ایک دو اور عورتیں باہر سے لے کر ہم کام شروع کر دیں گے اور کچھ مرد پردہ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھا دیں گے۔ہماری تجویز یہ ہے کہ اس وقت جو د مینیات کلاس ہے اسے ختم کر دیا جائے۔مدرسہ میں جتنی عربی اور قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم ہے اُسی پر اکتفاء کیا جائے اور اس کے بعد کالج میں