انوارالعلوم (جلد 22) — Page 137
انوار العلوم جلد ۲۲ ا ۱۳۷ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو میں آپ مدینہ تشریف لائے اور سب سے پہلے اپنی بیٹی حفصہ کے پاس گئے دیکھا کہ وہ رور ہی تھی آپ نے فرمایا کہ کیا ہوا ؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے روتے ہوئے کہا کچھ پتہ نہیں مجھے صرف اتنا معلوم ہوا ہے کہ آپ ہم سے خفا ہو گئے ہیں اور مسجد میں چلے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا دیکھ ! میں تیری ماں کو یہی کہا کرتا تھا کہ ایک دن تیری بیٹی کو طلاق مل جائے گی کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے باتیں کرتی ہے اس کے بعد آپ مسجد میں گئے وہاں خیمہ لگا ہوا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ کے جسم پر نظر آرہے تھے۔حضرت عمر چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں گفتگو کریں مگر ڈرتے بھی تھے کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ناراضگی پیدا نہ ہو آخر انہوں نے گفتگو کا یہ ذریعہ نکالا کہ جاتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنے لگے کہ یا رَسُول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ خدا کے نبی ہیں خدا کے پیارے اور اس کے مقرب ہیں اور یہ خبیث قیصر اور کسری دین سے بے بہرہ اور خدا اور رسول کو چھوڑنے والے ہیں مگر وہ لوگ تو اعلیٰ درجے کے محلات میں رہتے ہیں اور آپ خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ان کا منشاء یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غصہ آیا ہو ا تھا وہ کسی طرح دور ہو جائے چنانچہ جب انہوں نے یہ بات کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے وہ تو ظالم بادشاہ ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے نبی ہیں۔میرا دنیا کی ان چیزوں سے کیا کام ہے مجھے تو اللہ تعالیٰ نے کسی اور مقصد کے لئے بھجوایا ہے۔جب انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ فرو ہو گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یا رَسُول اللہ ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تو طلاق نہیں دی۔آپ نے کہا الْحَمدُ لِلَّهِ آپ نے طلاق نہیں دی مگر یا رَسُول اللہ ! عورتوں کی یہ حالت ہے کہ میں جب گھر میں جاؤں اور کوئی بات کروں تو میری بیوی مجھے مشورے دینا شروع کر دیتی ہے کہ یوں کرو اور یوں نہ کرو۔مکہ والوں میں یہ رواج تھا کہ وہ عورتوں کو بولنے نہیں دیتے تھے اور یہی