انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 134

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۴ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو صوفی عورت تھیں۔اس طرح کئی بادشاہ گزری ہیں ، کئی عالم عورتیں گزری ہیں جنہوں نے دین کی بڑی بڑی خدمتیں کی ہیں۔تو عورت اور مرد میں دماغ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں جو کچھ ایک مرد سیکھ سکتا ہے وہ ایک عورت بھی سیکھ سکتی ہے۔گو پہلی نسل اتنی ذہین نہیں ہو گی جتنے ذہین مرد ہوتے ہیں کیونکہ مردوں کی ذہانت میں نسلی تجربہ بھی شامل ہوتا ہے مگر یہ کام تم شروع کر کے ہی سیکھ سکتی ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ مردوں میں باوجود جاہل ہونے کے یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ مسائل بیان کر سکیں گے لیکن عورت اچھی تعلیم یا فتہ بھی ہو تو وہ پہلے شرمائے گی پھر مسکرائے گی پھر سر نیچے ڈال دے گی اور پھر ہنسنے لگے گی اور کہے گی اچھا میں بھی مسئلہ بیان کر سکتی ہوں لیکن مردوں میں کسی جاہل سے جاہل سے بھی کہو کہ مسئلہ بیان کرو تو وہ مسئلہ بیان کرنا شروع کر دے گا چاہے اُس کو کچھ بھی نہ آتا ہو۔یہ فرق کیوں ہے؟ اسی لئے کہ مرد نسلاً بعد نسلاً مسائل بیان کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے اہل ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو نا اہل ہوتے ہیں وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم اہل ہیں اور عورت جو اہل ہوتی ہے وہ بھی اپنے آپ کو نا اہل سمجھتی ہے۔یہ ذہنیت کا فرق ہے عقل یا علم کا فرق نہیں۔یہ عادت تمہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔اب عورتوں کی حکومت کا زمانہ ہے ملکہ وکٹوریہ کے عہد سے عورتوں نے سر نکالنا شروع کیا اور پھر مغربیت کے اثر کے نیچے ان میں اور زیادہ بیداری پیدا ہوئی اور اب تو یہ حال ہے کہ تھوڑے ہی دن ہوئے اخبارات میں ایک لطیفہ شائع ہوا۔نوابزادہ لیاقت علی خان اور ان کی بیگم کی بنگال میں ایک دعوت ہوئی۔اس موقع پر کوئی شخص عورتوں کے متعلق نوابزادہ لیاقت علی خان سے باتیں کر رہا تھا۔باتوں باتوں یں مسٹر لیاقت علی خان اسے کہنے لگے کہ میاں تم یہ طریقہ اختیار کرو کہ بیوی کچھ کرے اسے مان لیا کرو مگر کیا وہ کچھ کرو جو تمہارا جی چاہے؟ اس پر بیوی بول اُٹھی کہ جو کچھ جی میں آیا کرو گے تو پھر گھر میں بھی آؤ گے یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کچھ تو رد عمل ہے اُن مظالم کا جو پُرانے زمانے میں عورتوں پر کئے جاتے تھے۔پُرانے زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ عورت جوتی سے سیدھی ہوتی ہے