انوارالعلوم (جلد 22) — Page 133
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۳ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو وو کو دنیا کا عقل مند ترین انسان ماننے پر مجبور ہے بے اختیار ہو کر اُٹھ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ آہ ! میری خدیجہ، آہ! میری خدیجہ زندہ ہوتیں تو اس فقرے کے کوئی معنی نہ تھے۔ہم سمجھ سکتے تھے کہ ایک عورت کی آواز حضرت خدیجہ کی آواز سے ملتی تھی اس لئے آپ کو دھوکا لگا۔آپ نے سمجھا کہ خدیجہ آگئیں ہیں لیکن خدیجہ کو فوت ہوئے بارہ سال ہو چکے ہیں اور آپ کی کئی دوسری شادیاں ہو چکی تھیں جن میں سے بعض سے آپ ان کی دینی خدمات کی وجہ سے اور قومی خدمات کی وجہ سے اور محبت الہی کی وجہ سے بہت خوش تھے مگر باوجود اس کے ایک سکتہ آپ پر طاری ہو گیا۔آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ خدیجہ تفوت ہو گئیں ہیں ، آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ اس کی وفات پر ۱۲ سال گزر چکے ہیں، آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ میں خدیجہ کے بعد اور کئی شادیاں کر چکا ہوں ، آپ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ ان میں سے کئی ایسی ہیں جو دینی خدمات میں پیش پیش ہیں اور عورتوں میں میری سیکرٹری کا کام کر رہی ہیں۔آپ ان تمام واقعات کو بھول جاتے ہیں اور بے اختیار ہو کر کہتے ہیں ' آہ ! میری خدیجہ - آہ! میری خدیجه آنے والی خدیجہ کی بہن تھی اور بہنوں کی آواز آپس میں ملتی ہے مگر اس آواز کو سُن کر آپ بے تاب ہو گئے اور اپنے خیال میں آپ نے یوں محسوس کیا کہ خدیجہ فوت ہی نہیں ہوئیں اور وہ پھر اپنے گھر میں آگئی ہیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ وہ عورت معمولی عورت نہیں تھی وہ عورت اپنی ذہنی اور مذہبی کیفیتوں میں ایسی شان رکھتی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا دانا اور ہوشیار اور عقلمند انسان بھی اُس کی عقل اور دانش سے متاثر تھا اور اس کا نام بھی اس کے دل میں گدگدیاں پیدا کر دیتا تھا۔پھر حضرت عائشہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ آدھا دین تم عائشہ سے سیکھ سکتے ہو ئے اگر عائشہؓ نے واقع میں اسلام کا مطالعہ نہ کیا ہوتا ، اگر عائشہ نے واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو یاد نہ رکھا ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا صاف گوانسان کیا عائشہ کی خاطر یہ کہہ سکتا تھا کہ آدھا دین تم عائشہ سے سیکھ سکتے ہو۔پھر اسلام میں اور بھی بہت سی عورتیں گزری ہیں۔رابعہ بصری ایک مشہور