انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 132

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۳۲ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو ایک بے بہا جو ہر ہے جسے ہر قسم کے دشمن کے سامنے پیش کر کے ہم فخر کر سکتے ہیں۔ہم تو خیر دور زمانہ کے ہیں اور واقعات سے ہم جتنا اندازہ لگا سکتے ہیں وہ اتنا گہرا نہیں ہو سکتا جتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی صحبت میں اندازہ لگایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کافر کہنے والے لوگ موجود ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے دین کہنے والے لوگ موجود ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا اور جھوٹا مذہب بنانے والا کہنے والے لوگ موجود ہیں اور عیسائیوں کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں لیکن شدید سے شدید دشمن بھی یہ اقرار کرنے پر مجبور ہے کہ وہ نہایت ہی ذہین آدمی تھا۔کوئی یہ نہیں کہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سمجھدار نہیں تھے۔وہ ان کے دین پر حملہ کرتا ہے ، وہ ان کی خیانت پر حملہ کرتا ہے مگر ان کی عقل پر حملہ کرنے والا کوئی نہیں۔ایسے عقل مند انسان نے جو رائے حضرت خدیجہ کے متعلق قائم کی اور جو گہرا اثر ان کے دماغ پر حضرت خدیجہ کا پڑا ہے اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ہم جو ڈور سے اندازہ لگا رہے ہیں ہمارے اندازے کتنے چھوٹے ہوں گے اور خدیجہ ان سے کتنی بالا ہوں گی کیونکہ ہم سینکڑوں سال بعد میں اندازہ لگا رہے ہیں۔ہمارے سامنے خدیجہ کی ساری تاریخ نہیں ہمیں صرف چند واقعات کا علم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں رہتے تھے اور رات دن آپ کا معاملہ حضرت خدیجہ سے پڑتا تھا اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہزاروں واقعات دیکھے ہوں گے۔پس آپ نے جو واقعات دیکھے ان کے ماتحت جو اندازہ حضرت خدیجہ کا آپ لگا سکتے تھے وہ ہم نہیں لگا سکتے۔چنانچہ اتنی بڑی عقل والا انسان جس کی دانش اور عقل اور بے دار مغزی کا شدید ترین دشمن بھی قائل ہے اُس پر حضرت خدیجہ کا جو اثر تھا اس کا آپ لوگ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت خدیجہ فوت ہو گئیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے گئے آپ کی اس کے بعد 9 شادیاں ہوئیں اور گیارہ یا بارہ سال حضرت خدیجہ کو فوت ہوئے بھی ہو گئے ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے غالباً حضرت عائشہ کے ہاں ہی تھے کہ کسی عورت کے بولنے کی آواز آئی یہ ذہین اور بے دار مغز انسان جسے اگر کوئی سب سے بڑا نبی نہیں مانتا تو اس