انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xv

۱۰ بھی اعلان فرمایا ۔ آخر میں حضور نے پاکستان بننے میں جماعت احمدیہ کی جو خدمات ہیں اُن کا بھی اختصار سے ذکر فرمایا اور میمورنڈم پڑھ کر سنایا۔ (۱۱) سیر روحانی نمبر (۵) حضرت خلیفة المسح الثانی کا یہ معرکۃ الآراء خطاب جو آپ نے جلسہ سالا نہ۱۹۵۰ ء کے اختتامی اجلاس میں مورخہ ۲۸ دسمبر کو ارشاد فرمایا حقائق و معارف و قرآنی انوار پر مشتمل تقاریر کا ایک تسلسل ہے جو آپ نے کراچی ممبئی اور حیدر آباد کے سفر کے بعد ایک نظارہ کی ا ہے جو نے کراچی میں اور حیدر آباد کے سر کے بعد نظارہ کی بناء پر ۱۹۳۸ ء میں شروع کیا تھا ۔ اس مضمون کا محرک دلّی میں واقع غیاث الدین تغلق کا قلعہ بنا۔ اس سفر میں آپ نے ۱۶ مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مقابل پر عالم روحانی میں ان کے مشابہہ اور مماثل امور کو نہایت وجد آفرین اور اثر انگیز پیرا یہ میں ان تقاریر میں بیان فرمایا۔ جن کا نام آپ نے ”سیر روحانی رکھا۔ اس خطاب میں آپ نے عجائبات سفر میں سے ساتویں یعنی دیوان عام کو بیان فرمایا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ دُنیوی دیوان عام کی غرض بادشاہ کے قوانین کا اعلان ، بادشاہ کا جلوہ افروز ہونا، عوام کی فریادیں سننا وغیرہ ہوتا ہے لیکن یہ دیوان عارضی ہوتے ہیں جو جلد یا بدیر ویران اور بر باد ہو جاتے ہیں پھر یہ ویسے بھی ایک خاص محدود علاقہ کے لئے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک قرآنی دیوان بھی ہے جس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ جلوہ افروز ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولَا اور إِنِّي رَسُولُ اللهُ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا کہہ کر اس بادشاہت کے دائمی ہونے کے ساتھ ساتھ ساری دُنیا کے لئے ہونے کا اعلان کیا گیا اور دیوانِ عام میں بادشاہوں کے مقرر کردہ گورنر ز ان کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں جبکہ اس قرآنی دیوان میں اس کو بادشاہ مقرر کرنے والا خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ اور پھر احیائے دین کے لئے مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کر کے آنحضور ﷺ کے تاقیامت گورنر جنرل ہونے کا اعلان فرمایا اور اس کے ذریعہ دین کو دوبارہ عروج ملا ۔ صلى الله