انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 123

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۳ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے سے محبت کرنا مرض ہے، اگر اُس کی باتوں کو ماننا مرض ہے اور یہ ایسی متعدی بیماری ہے جس سے دنیا ڈرتی ہے کہ یہ اُسے نہ لگ جائے تو ہم کہیں گے کہ خواہ اس کے بدلے میں ہمارے جسم کی ایک ایک بوٹی بھی جدا ہو جائے ، خواہ اس کے بدلے میں ہماری جان اور مال تباہ ہو جائیں لیکن ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔اور بیماریاں تو قابلِ علاج ہیں لیکن اس مرض کا کوئی علاج نہیں اور نہ صرف اِس کا کوئی علاج ہی نہیں بلکہ اس میں مبتلا رہنے کو ہم فخر سمجھتے ہیں اور اس کے علاج کو عذاب سمجھتے ہیں۔اس مرض کی دوا اور دار وسوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کے ہاتھ میں نہیں۔پس آؤ ہم اپنے رب کے حضور میں عرض کریں کہ اے ہمارے رب ! ابھی تو ہم نے اپنے مونہوں سے کہا ہے کہ ہم تیرے ہو گئے ہیں اور دنیا ہم سے عداوت کرنے لگی ہے۔اے ہمارے رب! اگر ہماری موتیں اسی حالت میں ہو جائیں تو نہ ہم دنیا کے رہتے ہیں اور نہ دین کے۔دنیا کے لوگ ہم سے منہ نہیں لگاتے کہ ہم نے تجھ سے منہ لگایا ہے لیکن ہم تیرے بندے اب تک نہیں بنے کیونکہ ہم نے مونہوں سے کہا ہے کہ ہم تیرے ہو گئے لیکن ہم نے اپنے دعوئی کے مطابق عمل نہیں کیا ہمارے اعمال میں ابھی خامیاں ہیں۔پس اے خدا! تُو ہمارے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دے کہ دنیا ہماری مخالفت کرتی ہے تو کرتی چلی جائے لیکن ہم نے تیری محبت کا جو دعویٰ کیا ہے ہم اس میں سو فیصدی صادق ثابت ہوں اور خالص طور پر تیرے بن جائیں۔پھر تمام عداوتیں ہمارے لئے راحتیں بن جائیں گی۔دنیا جس چیز کو دوزخ سمجھتی ہے ہم اسے جنت قرار دیں گے کیونکہ جسے تو مل گیا اسے سب کچھ پل گیا۔تیرے لئے گالیاں سننا ساری دنیا کی تعریفوں سے بہتر ہے۔اے خدا! تُو ہمارے اس دعویٰ کو حقیقی بنا دے، تو ہمارے اندر اپنا عشق پیدا کر دے، تو ہمارے اندر اپنا لگاؤ پیدا کر دے، تیرے وجود کے سوا باقی ساری دنیا ہماری نظروں سے غائب ہو جائے۔بجائے اس کے کہ ہم دنیا کی طرف نظر اٹھا ئیں دنیا ہمیں خود ہی نظر نہ آئے صرف تیرا ہی چہرہ ہمارے سامنے رہے۔دنیا کی ہر چیز بے شک ہم سے چھینی جاسکتی ہے لیکن تو ہم سے چھینا نہ جا سکے۔