انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 122

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۲ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے کام لیتے ہیں، جب دوسرے لوگ بغض اور کینہ دکھاتے ہیں ہماری جماعت کے لوگ محبت اور پیار کا سلوک کرتے ہیں اور جب دوسرے لوگ قوم اور ملک سے سچی ہمدردی نہیں رکھتے بلکہ ظاہر داری سے کام لیتے ہیں ہماری جماعت کے لوگ قوم ، ملک، ہم مذہبوں اور تمام بنی نوع انسان سے خواہ وہ اسلام سے نسبت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ہمدردی کرتے ہیں اور باوجود اس کے کہ دنیا ہمیں کشتی اور گردن زدنی سمجھتی ہے ہمیں سب کی بھلائی مدنظر رہتی ہے۔دنیا ہمیں اس لئے نہیں دھت کارتی کہ ہم نے اس کا کچھ بگاڑا ہے، وہ ہم سے اس لئے تعلق نہیں توڑتی کہ ہم نے کسی پر ظلم کیا ہے بلکہ وہ اس لئے ہمیں منہ نہیں لگاتی کہ ہم نے اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے آقا سے منہ لگا یا لیا ہے لیکن ہم اسے کسی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتے۔یہ وہ چیز ہے جس پر ہم اپنے عزیز ترین وجو دوں کو بھی قربان کر سکتے ہیں۔ہم اسے نہ حکومت کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں نہ مُلک وقوم کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہم کسی عقیدہ کی خاطر اسے چھوڑ سکتے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ہمارے دُشمنوں کو سوائے اس کے ہمارے ساتھ اور کوئی دشمنی نہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی آواز کوسُن لیا اور یہ ایسی چیز نہیں جس کا ہمارے پاس کوئی علاج ہو۔اگر مال کا سوال ہوتا تو ہم کہتے چلو اس سے ہمیں کیا غرض اسے چھوڑ دو، اگر ملک کا سوال ہوتا تو ہم کہتے کہ اسے چھوڑ دو ہمیں ساری دنیا سے عداوت مول لینے کی کیا ضرورت ہے اگر عزت کا سوال ہوتا تو ہم کہتے ہمیں ساری دنیا سے لڑائی سہیڑ نے سے کیا غرض اسے چھوڑ دو۔یہ لوگ ہم سے اُس چیز کو چھڑانا چاہتے ہیں جسے چھوڑ کر نہ ہمارا دنیا میں کچھ رہتا ہے اور نہ آخرت میں۔یہ لوگ ہم سے خدا چھڑوانا چاہتے ہیں اور اس کا ہمارے پاس ایک ہی جواب ہے کہ تم ہم سے ملک لے لو ، تم ہماری آزادیاں لے لو ، تم ہماری عزتیں لے لو ، تم ہمارے مالوں پر قبضہ کر لو، ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔پس ہماری حالت اس قسم کی ہے جس کو لا علاج مرض کہتے ہیں۔ہماری مرض وہ ہے جس کے دور کرنے کا خیال بھی ہمارے جسموں پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ