انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 121

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۱ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے گلا بیٹھ گیا ہے اور نزلہ کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔خیر کل کی بات تو کل کی رہی اس وقت مجھے گلے میں شدید درد ہے اور اس کے ساتھ سر میں بھی درد ہو رہا ہے ناک اور کن بیٹیوں میں بھی درد ہے جس کی وجہ سے میں خیال کرتا ہوں کہ میرے لئے تقاریر کو نبھانا مشکل ہوگا اس وجہ سے احباب کو اور بھی احتیاط کرنی چاہیئے اس لئے میں پیدل چل کر نہیں آیا بلکہ کار پر آیا ہوں اور آئندہ بھی کار پر ہی آیا کروں گا کیونکہ گرد اڑنے کی وجہ سے بیماری کے زیادہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی طرح احباب ملاقات کے وقت بھی یہ احتیاط رکھیں کہ وہ اس طرح قدم رکھیں کہ گر دنہ اُڑے۔ایک بات میں سلیج کے افسروں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جو تکلیف مجھے محسوس ہوئی ہے وہ دوسرے لیکچراروں کو بھی محسوس ہو گی اور وہ تکلیف یہ ہے کہ مائیکروفون عین منہ کے سامنے رکھا ہوا ہے اور یہ اتنا موٹا ہے کہ اس کی وجہ سے آدھے آدمی نظر نہیں آتے۔اس سے سُننے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور تقریر کرنے والوں کو بھی۔اسے ایسی جگہ پر رکھنا چاہئے کہ یہ منہ سے نیچے رہے تا سامعین تقریر کرنے والے کو دیکھ سکیں اور تقریر کرنے والے سامعین کو دیکھ سکیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لئے جس قسم کی مشکلات ہیں اور جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں یہ مشکلات اور حالات کسی دوسری قوم کو پیش نہیں آ رہے۔ہماری حالت اُس یتیم کی سی ہے جس کے نہ صرف ماں باپ ہی فوت ہو گئے ہیں بلکہ اُس کا کوئی عزیز بھی دنیا میں باقی نہیں رہا۔صحابہ کرام کا جو حال تھا وہی ہمارا ہے دنیا کی کوئی قوم ہم سے منہ لگانے کے لئے تیار نہیں۔دنیا کی کوئی قوم ہم سے خوش خلقی سے پیش آنے کے لئے تیار نہیں ، دنیا کی کوئی قوم ہمارے ساتھ محبت سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں اور ہم جب بھی سوچتے ہیں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے یہ عداوت کی جاتی ہے اور جس کی وجہ سے بغض و کینہ ہم سے روا رکھا جاتا ہے۔ہم نے کسی کا مال نہیں مارا جب دوسرے لوگ مال کو ٹتے ہیں ہم دوسروں کی خدمت کرتے ہیں ، جب دوسرے لوگ ظلم کرتے ہیں ہماری جماعت کے لوگ إِلَّا مَا شَاءَ الله رحم سے