انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 120

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۲۰ ہم خدا تعالیٰ کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے ایسی جگہ میں لڑکا یا جائے کہ یہ جلسہ میں مخل نہ ہوں۔اصل اور مقدم چیز تو جلسہ ہے اور ایسی چیز جو اس میں مخل ہو یا تقریروں کے اثر میں روک بننے والی ہو وہ کسی صورت میں جائز نہیں ہو سکتی ایسا کرنے کا کسی کو حق نہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ نوجوانوں کو بات سمجھنے کی عادت نہیں میں نے کہا تھا کہ آویزے سٹیج پر فلاں جگہ لگائیں لیکن انہوں نے میری پوری بات سنی نہیں صرف سٹیج کا لفظ سُن لیا اور آویزے موجودہ صورت میں لگا دیئے۔جب یہ سوال میرے پاس پہنچا تو میں اُس وقت ناشتہ کر رہا تھا لیکن میں نے اُس وقت دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں جواب بھجوا دیا کہ ایسا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔اس کے بعد سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ تمام دوستوں کو معلوم ہے کہ میرا یہ سارا سال بیماری میں گزرا ہے۔گزشتہ جلسہ کے بعد مجھے کھانسی اور نزلہ ہوا پھر آواز بیٹھ گئی اور کئی دن تک بغیر آواز کے گویا جیسے پھسپھسا ہٹ ہوتی ہے میں بولتا تھا ایک لمبے عرصہ کے بعد مجھے اس بیماری سے افاقہ ہو الیکن دو ماہ کے بعد کوئٹہ میں نقرس کا دورہ ہو گیا جو دو ماہ تک رہا پھر کھانسی کا دورہ ہوا جو چارہ ماہ تک رہا پھر کچھ عرصہ آرام رہا لیکن پچھلے دنوں بخار کا شدید دورہ ہوا لیکن اب پھر کھانسی اور زکام ہے ان بیماریوں کی وجہ سے مُجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں اتنا بوجھ اُٹھا سکوں جتنا بوجھ میں پہلے اُٹھایا کرتا تھا پس احباب کو انتظام کے ماتحت اگر کچھ قربانی کرنی پڑے اور اُنہیں ملاقات کا اتنا وقت نہ ملے جتنا پہلے ملا کرتا تھا تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ اشد ضرورت کی وجہ سے کیا گیا ہے اور انہیں اس پابندی کو قبول کرنا چاہئے۔اب بھی میں بول رہا ہوں تو بڑے زور سے چند الفاظ کہہ رہا ہوں اور میں نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ تقریریں میں کس طرح کروں گا۔کل تک مجھے آرام تھا لیکن رات کو تقریروں کے لئے نوٹ لکھنے کی وجہ سے مجھے زیادہ دیر تک جاگنا پڑا۔پہلے تو میں رات کو کام کرنے کا عادی تھا اور تین تین چار چار بجے تک کام کرتا رہتا تھا لیکن اب بیماری کی وجہ سے میں سردی میں کام نہیں کر سکتا۔آٹھ بجے ہی بستر میں داخل ہو جا تا ہوں لیکن کل نوٹوں کی وجہ سے گیارہ بجے رات تک کام کرتا رہا جس کی وجہ سے میرا