انوارالعلوم (جلد 22) — Page xiv
۹ اُس نے موقع پا کر آپ پر مسودہ میں کاغذ رکھنے کا مقدمہ کر دیا۔حضور نے اس ضمن میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا۔حضور نے اپنے اس خطاب میں جماعت احمد یہ پر ہونے والے جن الزامات کو گنوایا ان میں سے ایک سردار آفتاب احمد خان جنرل سیکرٹری مسلم کشمیر کا نفرنس کا الزام تھا کہ کشمیر میں احمدیوں نے ملک سے غداری کی ہے اور کشمیر کے محاز پر احمدیوں نے غداری کے طور پر فرقان فورس بھیجی۔حضور نے فرمایا کہ اگر ہم واقعہ غدار ہیں تو ہمیں دو سال تک محاذ پر کیوں بٹھائے رکھا۔اگر ہم غدار ہیں تو کیوں قوم نے ہمیں گولیوں کا مستحق نہ بنا دیا۔حضور نے فوج کے کمانڈر انچیف کے فرقان فورس کے حق میں تعریفی بیان کو بھی تفصیل سے بیان فرمایا۔حضور نے احرار کے اس الزام کو بھی بیان فرما کر اس کا تسلی بخش جواب دیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے باؤنڈری کمیشن کے موقع پر ملک سے غداری کی حضور نے اس حوالے سے اپنی ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے خلاصہ فرمایا : - خلاصہ یہ ہے کہ احمدیوں کا الگ میمورنڈم پیش کرنا احرار کی اس شرارت کو ختم کرنے کے لئے تھا کہ احمدی مسلمان نہیں کیونکہ اگر اس کا جواب احمد یہ میمورنڈم میں دوسرے مسلمانوں کی حمایت کر کے نہ دیا جاتا تو گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت کو ہندو اور سکھ اعداد و شمار سے غلط ثابت کر سکتے تھے۔حضور نے میمورنڈم کے بعض پیرا گراف اس تقریر میں پڑھ کر سنائے جس سے ثابت کیا کہ قادیان جماعت کا عالمی اور دائی مرکز ہے اور جماعت کے لئے ممکن نہیں کہ وہ مرکز کو کسی اور جگہ تبدیل کرے۔جماعت کی بہت بھاری اکثریت مغربی پنجاب پاکستان میں موجود ہے۔اس لئے قادیان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا جماعت کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ہے اس لئے اسے پاکستان کے ساتھ ملایا جائے جبکہ احرار کہتے ہیں کہ سرظفر اللہ خان صاحب نے قادیان کو انڈیا کے ساتھ ملانے کے لئے کوششیں کیں جو سراسر غلط ہے۔حضور نے اپنے مؤقف کو جھوٹا ثابت کرنے والے کے لئے دو ہزار روپیہ انعام کا