انوارالعلوم (جلد 22) — Page 95
انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۵ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اس نے مجھے بے ایمان کہا ہے تو اگر پہلا شخص اسے یہ بتا دیتا ہے کہ اس نے مجھے حرام زادہ کہا تھا اور قرآن وحدیث نے ایسا کہنے سے منع فرمایا ہے تو وہ کہے گا یہ تو قرآن اور حدیث کی بات کہتا ہے۔یہ گالی نہیں۔گالی وہ ہے جو تم نے دی۔پس اگر تم لوگوں کے پاس جاتے ہو اور انہیں بتاتے ہو کہ مخالفوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو یہ یہ گالیاں دی ہیں اور ان کے جواب میں آپ نے انہیں یہ کہا ہے کہ قرآن کریم نے ان سے منع فرمایا ہے تو وہ مخالفین کے پاس جاتے اور انہیں کہتے مرزا صاحب کو تم نے یہ یہ گالیاں دی ہیں اب اگر انہوں نے اس کے جواب میں کچھ کہا ہے تو شریعت میں اس کا نام گالی نہیں۔اس پر مخالف یا تو یہ کہہ دیتے کہ یہ ہماری کتابیں نہیں اور یا یہ فتویٰ دیتے کہ ہمارے ماں باپ جھوٹے تھے لیکن یہ صاف بات ہے کہ وہ یہ فتویٰ ہر گز نہیں دیں گے کہ ہمارے ماں باپ جھوٹے تھے۔اگر ایک اہلِ حدیث تمہارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے مخالفین کو گالیاں دی ہیں تو تم جھٹ انہی کی کتابیں ان کے سامنے رکھ دو اور کہو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دوسرے علمائے اہلِ حدیث نے مرزا صاحب کو یہ یہ گالیاں دی ہیں اور مرزا صاحب نے انہیں گالیوں سے منع فرمایا ہے لیکن جب ایک شخص یونہی شور مچادیتا ہے کہ مرزا صاحب نے مخالفین کو گالیاں دی ہیں تو لوگوں کو چونکہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے باپوں نے مرزا صاحب کو کیا کچھ کہا ہے اس لئے وہ مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں۔تم ان کے پاس جاؤ۔اور ان کے سامنے ان کی کتابیں رکھ دو اور بتاؤ کہ تمہارے علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ او السلام کو یہ یہ گالیاں دی ہیں۔کیا یہ ا اسلام کی تعلیم کے مطابق ہیں؟ بعض غیر اسلامی گالیاں ہیں اور بعض غیر اسلامی نہیں۔مثلاً احمق ہے کسی کو احمق کہنا شرافت کے تو خلاف ہے لیکن اسلام کے خلاف نہیں۔لیکن اگر کوئی حرامزادہ کہہ دیتا ہے تو یہ اسلام کے خلاف ہے۔اسلام نے ایسا کہنے سے منع فرمایا ہے۔پھر اس قسم کی احادیث موجود ہیں کہ اگر کوئی کسی کے متعلق کوئی بُرا کلمہ کہتا ہے تو وہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔اب یا تو یہ باتیں احادیث سے نکال دو۔اور اگر انہیں احادیث سے نہیں نکالتے تو پھر غصہ میں کیوں آتے ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے