انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 85

انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۵ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اے دل تو نیز خاطر ایناں نگہدار آخر کنند دعوی حُبّ پیمبرم یعنی اے ہمارے مامور! یہ مسلمان جو تمہیں گالیاں دیتے ہیں تو پھر بھی ان کا لحاظ کر آخر یہ تمہیں کیوں گالیاں دیتے ہیں ؟ تمہیں مارنے کیوں دوڑتے ہیں اور تم پر حملہ آور کیوں ہوتے ہیں؟ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہی تمہیں مارتے اور گالیاں دیتے ہیں اس لئے ان کا لحاظ رکھنا بڑا ضروری ہے۔غرض ہماری جو مخالفت ہوتی ہے تمہیں دیکھنا چاہئے کہ اس کے پیچھے کیا بات ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ لوگ جو تمہیں گالیاں دیتے اور کہتے ہیں کہ تمہاری چائے بھی شراب سے بدتر ہے شراب پینا جائز ہوسکتا ہے لیکن تمہاری چائے پینی جائز نہیں اگر انہیں پتہ لگ جائے کہ میرے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جو شعلہ جل رہا ہے وہ ان کے لاکھوں لاکھ کے اندر بھی نہیں جل رہا تو وہ فوراً تمہارے قدموں میں گر جائیں۔یہ لوگ مخالفت اسی لئے کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں۔یہ مخالفت بعض غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ہے اسی لئے جب میں نے سُنا کہ لوگ میرے آنے پرشورش کریں گے تو مجھے غصہ نہیں آیا مجھے یہ سن کر کہ لوگ میری مخالفت کی وجہ سے شورش کریں گے خوشی ہوئی کہ ابھی میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی چنگاری ان کے اندر سلگ رہی ہے اگر چہ وہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ایسا کر رہے ہیں لیکن اس کا موجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی ہے اس لئے ہمیں بجائے غصہ میں آنے کے ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے۔اگر کسی شخص کا بھائی بیمار ہو جاتا ہے تو وہ اُسے زہر دے کر مارا نہیں کرتا ، وہ گلا گھونٹ کر ہلاک نہیں کرتا بلکہ اُس کا علاج کرتا ہے اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم بجائے ناراض ہونے کے اس مخالفت کو رفع کرنے کی تدبیر کریں۔اگر لوگ مخالفتیں کرتے ہیں اور مجھے یا بانی سلسلہ احمدیہ کو یا تمہیں بُرا بھلا کہتے ہیں تو جماعت کو یا د رکھنا چاہئے کہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں پس تم بجائے ناراض ہونے کے دعائیں کرو اور ان مخالفت