انوارالعلوم (جلد 22) — Page 78
انوار العلوم جلد ۲۲ ZA بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر مولوی صاحب پڑھتے بھی جاتے اور ترجمہ بھی کرتے جاتے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا میری ذہانت کا نتیجہ تھا یا اُن کے اخلاص اور محنت کا کہ ۱۴، ۱۵ سال کی عمر میں ۶ ماہ کے اندر اندر تھوڑا تھوڑا وقت پڑھنے کے بعد قرآن کریم کا ترجمہ ختم ہو گیا۔پھر جب میری عمر ۲۲،۲۰ سال کی ہوئی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا میاں ! تم مجھ سے بخاری بھی پڑھ لو چنانچہ میں نے بخاری شریف پڑھنی شروع کر دی۔گلے کی سوزش کی وجہ سے مجھ سے پڑھا نہیں جاتا تھا اور آنکھوں میں لگروں کی وجہ سے میں کتاب کو دیکھ نہیں سکتا تھا آپ خود ہی بخاری کا ایک پارہ اپنے سامنے رکھ لیتے اور روزانہ نصف پارہ مجھے پڑھا دیا کرتے۔آپ خود ہی پڑھتے جاتے تھے اور خود ہی ترجمہ کرتے جاتے تھے۔اس طرح دو اڑھائی ماہ میں چھٹیاں وغیرہ نکال کرمیں نے بخاری کا ترجمہ ختم کر لیا۔پھر عربی کے کچھ ابتدائی رسالے بھی میں نے آپ سے پڑھے۔یہ علم تھا جو آپ نے مجھے سکھایا اور جس کی وجہ سے میرے اندر مزید مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔آپ جو کچھ مناسب سمجھتے تھے تشریح کے طور پر خود ہی بیان کر دیتے تھے اور اگر میں کوئی سوال کرتا تو مجھے روک دیتے تھے۔ہمارے ایک ہم جماعت تھے۔تھے تو وہ بڑی عمر کے لیکن دوبارہ کلاس میں شامل ہوئے تھے اُن کا نام حافظ روشن علی تھا۔آپ حضرت نوشہ صاحب کے خاندان میں سے تھے جن کا مزار رن مل، ضلع گجرات میں ہے اور گدی کے مالکوں میں سے تھے۔انہی کے داماد (حافظ مبارک احمد صاحب) نے ابھی قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔جب مولوی صاحب کوئی تشریح بیان فرماتے تو چونکہ حافظ روشن علی صاحب اعتراض کرنا شروع کر دیتے اور کہتے کہ ان معنوں پر یہ یہ اعتراض پڑتا ہے۔میری عمر اُس وقت ۲۰ ۲۱ سال کی تھی۔میں نے حافظ صاحب کو اعتراض کرتے دیکھا تو ایک دن میرے دل میں بھی گد گدی سی اُٹھی اور میں بھی اعتراض کرنے لگا۔مولوی صاحب کو مُجھ سے بہت محبت تھی۔ایک دو دن تک تو آپ نے برداشت کیا۔لیکن پھر جو میں نے سوال کیا تو فرمایا میاں ! تمہارا معاملہ اور ہے اور حافظ صاحب کا معاملہ اور ہے۔یہ مولوی ہیں اور ان کا طریق بال کی کھال نکالنا ہوتا ہے لیکن تم مولوی نہیں تم نے تو دین