انوارالعلوم (جلد 22) — Page 77
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 24 بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر (فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۵۰ء بمقام بیت احمد یہ بھیرہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ایک ربع صدی سے زیادہ عرصہ ہو ا یعنی تقریباً ۳۰ سال ہوئے جب سے میرے دل میں اس شہر میں آنے کا شوق تھا۔ بھیرہ ، بھیرہ والوں کے لئے اینٹوں اور گارے یا اینٹوں بنا ہوا اور چونے سے بنا ہوا ایک شہر ہے مگر میرے لئے یہ اینٹوں اور گارے یا اینٹوں اور چونے کا اشہر نہیں تھا بلکہ میرے اُستاد جنہوں نے مجھے نہایت محبت اور شفقت سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا اور بخاری کا بھی ترجمہ پڑھایا ان کا مولد ومسکن تھا۔ بھیرہ والوں نے بھیرہ کی رہنے والی ماؤں کی چھاتیوں سے دودھ پیا لیکن میں نے بھیرہ کی ایک بزرگ ہستی کی زبان سے قرآن کریم اور حدیث کا دودھ پیا۔ پس بھیرہ والوں کی نگاہ میں جو قدر بھیرہ شہر کی ہے میری نگاہ میں اس کی اس سے بہت زیادہ قدر ہے ۔ میری نگاہ سے میری صحت بچپن سے ہی کمزور تھی اور میں اکثر بیمار رہتا تھا جس کی وجہ سے میں ت سے ہی تھے اور تھی اس پڑھائی میں سخت کمزور تھا۔ میری آنکھوں میں لکرے تھے اور گلے میں سوزش رہتی تھی اِس لئے نہ تو میں پڑھ سکتا تھا اور نہ اچھی طرح دیکھ سکتا تھا ۔ اُن دنوں حضرت خلیفہ مسیح الاوّل مولوی نور الدین صاحب جو بھیرہ کے رہنے والے تھے اُنہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ میاں ! تم مجھ سے قرآن کریم پڑھا کرو۔ تمہیں نہ دیکھنے کی تکلیف ہوگی اور نہ پڑھنے کی تکلیف ہو گی میں خود ہی بولا کروں گا اور میں ہی کتاب دیکھا کروں گا ۔ چنانچہ میں نے آپ سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ میں قرآن کریم کھول کر سامنے رکھ لیتا اور و