انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page x

(۶) تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر اہتمام پہلے چودہ روزہ تربیتی کورس جس میں۵۰ خدام نے شرکت کی کے اختتام پر مورخہ سے نومبر ۱۹۵۰ء کو حضور نے خطاب کرتے ہوئے خدام کو نصیحت فرمائی کہ واپس جا کر اپنی اپنی جگہ پر خدام کی تنظیم قائم کریں اور اس تعلیم کو جو یہاں سیکھی ہے اپنے ساتھی خدام کو بھی سکھائیں۔نیز حضور نے خدام کو اُس عہد کو تازہ کرنے کی نصیحت فرمائی جو آنحضور ﷺ نے اسلام کے پر چار کا اپنے خدا سے کیا تھا۔حضور نے فرمایا:- پس یہاں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقہ میں جاؤ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم کرو تبلیغ کرو اور کوشش کرو کہ مرکز کی آواز کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ہمارے ہر نو جو ان کے اندر یہ آگ ہونی چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کا کام کرے۔“ وو حضور نے خطاب کے آخر میں خدام سے درج ذیل عہد تین بار لیا۔66 " کیا آپ لوگ اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ جو باتیں آپ نے یہاں سیکھی ہیں اُن پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور اپنی اپنی جماعتوں میں ان اسباق اور تعلیموں کو پھیلانے کی کوشش کریں گے اور زیادہ سے زیادہ اخلاص خود بھی دکھائیں گے اور دوسروں میں بھی اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔“ (۷) بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی مورخه ۲۶ نومبر ۱۹۵۰ء کو پہلی بار حضرت خلیفتہ المسح الاول کے مولد ومسکن بھیرہ تشریف لے گئے۔جہاں حضور نے بعد نماز ظہر وعصر احباب جماعت سے ایک دردانگیز اور پُر معارف خطاب فرمایا جو دو گھنٹے جاری رہا۔حضور نے خطاب کے آغاز میں بھیرہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بھیرہ ، بھیرہ والوں کے لئے اینٹوں، گارے اور چونے سے بنا ہوا ایک شہر ہے مگر میرے لئے میرے استاذ جنہوں نے مجھے