انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 48

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات لکھا جائے۔صرف شرط یہ ہوگی کہ مضمون اس جگہ لکھنا ہوگا اور سپر وائزر کی نگرانی میں لکھنا ہوگا تا معلوم ہو کہ مضمون لکھنے والا وہی ہے۔ہمارا اصل مقصد یہ نہیں کہ خدام کی ذہانت کا امتحان لیا جائے بلکہ ہم نے ان کے علم کا امتحان لینا ہے اور علم کتابوں کے مطالعہ سے پیدا ہوتا ہے۔پس آئندہ یہ طریق بند کیا جائے اور علاقے اور سرکل مقرر کر دیئے جائیں اور ان سے ایک ایک نمائندہ اس امتحان میں شمولیت کیلئے لیا جائے۔انہیں مضمون پہلے بتا دیا جائے اور یہ اجازت دی جائے کہ لوکل مجلس کے تمام خدام اپنی ایک میٹنگ منعقد کریں اور اپنے نمائندہ کو دلائل لکھوائیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری کی ساری ا جماعت اس مضمون کی تیاری میں شامل ہوگی اور ہر خادم یہ کوشش کرے گا کہ اُس کی دلیل زیادہ اعلیٰ ہو۔پھر کتابوں کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے صرف دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس نے مقررہ وقت میں مضمون لکھ لیا ہے؟ صَاحِبُ القلم اُسی کو کہتے ہیں جو کسی مضمون کو مقررہ وقت میں لکھ سکے اور صاحِبُ القلم پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے۔پھر تقریری امتحان بھی اسی طرح کا ہونا چاہئے۔ایک اور چیز بھی ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایسا کوئی انتظام نہیں کہ اگر مضمون میں کوئی غلطی ہو جائے تو اُس کی اصلاح کر دی جائے۔مثلاً یہی مضمون کہ پاکستان کو کس بلاک میں شامل ہونا چاہئے یہ مضمون طلباء کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔اگر کوئی لیکچرار کوئی ایسی بات کہہ دے جو سلسلہ کی پالیسی کے خلاف ہو اور اُس کی بعد میں تردید نہ کی جائے تو سننے والا وہی خیال ساتھ لے جائیگا اور کہے گا میں خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع پر گیا تھا اور وہاں سے یہ بات سن کر آیا ہوں۔پس اس موقع پر ایسا انتظام بھی ہونا چاہئے کہ کوئی شخص کسی قسم کا کوئی غلط خیال اپنے ساتھ لے کر نہ جائے۔میں بعد میں کوئی ایسا طریق مقرر کر دوں گا جس سے غلط خیالات کی تردید ہو سکے اور خدام اپنے ساتھ غلط خیالات لے کر نہ جائیں۔یہ ہدا یتیں میں آئندہ اجتماع کے متعلق دیتا ہوں تحریری اور تقریری مقابلوں کیلئے مجالس کو پہلے لکھا جائے اور وہ اپنی میٹنگ بلائیں اور اپنے اپنے نمائندہ کو نوٹ لکھوائیں۔