انوارالعلوم (جلد 22) — Page 595
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۵ سیر روحانی (۶) تم نے مہاجرین کو سر چڑھا لیا اب مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی نَعُوذُ باللهِ وہ خود مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نَعُوذ باللهِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دیگا۔عبداللہ کا بیٹا ایک سچا مسلمان تھا جب اُس نے اپنے باپ کی یہ بات سنی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میرے باپ نے جو بات کہی ہے اُس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اسے یہی سزا دینگے لیکن اگر آپ نے کسی اور مسلمان کو کہا اور اُس نے میرے باپ کو قتل کر دیا تو ممکن ہے اُس کو دیکھ کر میرے دل میں کبھی خیال آجائے کہ یہ میرے باپ کا قاتل ہے اور میں جوش میں آکر اُس پر حملہ کر بیٹھوں اِس لئے يَا رَسُولَ اللہ ! آپ مجھے حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔۶ش یہ واقعہ کس طرح اُن دونوں اوصاف کو ظاہر کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ ء کرام میں ودیعت کر دیئے تھے یعنی ایک طرف وہ کفر کے لئے ایک ننگی تلوار تھے اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کے جذبات کا انہیں اتنا احساس تھا کہ عبداللہ کے بیٹے نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر درخواست کی کہ يَا رَسُولَ اللہ ! اگر آپ میرے باپ کے متعلق قتل کا حکم صادر فرما ئیں تو پھر یہ کام میرے سپرد کیا جائے تا کہ کسی اور مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔ایک معمولی شکر رنجی کے موقع پر اسی طرح ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں کسی بات پر شکر رنجی ہوگئی۔حضرت ابوبکر کے پاکیزہ جذبات غلطی حضرت عمر کی تھی مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرؓ پر ناراض ہونے لگے تو حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور کہنے لگے يَا رَسُولَ اللہ ! میرا قصور تھا عمر کا کوئی قصور نہیں تھا۔۹۷ گویا جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے متعلق اُستاد سے شکایت کرتی ہے لیکن جب وہ ڈانٹتا ہے تو سب سے زیادہ دُکھ بھی ماں کو ہی ہوتا ہے یہی حال صحابہ کا تھا اُن کے دلوں میں اپنے بھائیوں