انوارالعلوم (جلد 22) — Page vi
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یه سید نا حضرت فضل عمر ليلة امسیح الثانی کی ایمان افروز ، پر معارف اور روح پر در خطابات پر مشتمل انوارالعلوم کی بائیسویں جلد ہے جو ۷ارستمبر ۱۹۵۰ء تا ۲۵ / مارچ ۱۹۵۲ء کی ۲۲ مختلف تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے ہے۔(۱) عورتیں آئندہ نسلوں کو دین دار بنا سکتی ہیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے لجنہ اماءاللہ کراچی کے اجتماع میں مؤرخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۵۰ء کو یہ معرکۃ الآراء خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے سورۃ النساء کی آیت ۲ کی بہت لطیف تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ” الناس میں عورتوں اور مردوں کو سانجھا خطاب ہے۔اللہ تعالیٰ کے جو احکام ہیں اُن میں عورتیں بھی ویسے ہی مخاطب ہیں جیسے مرد۔ان کے جذبات، احساسات اور اُمنگیں بھی ویسی ہی ہیں جیسے مردوں کی۔خدا عورتوں کی بھی ویسے ہی دُعا سنتا ہے جیسے مردوں کی اس لئے اولاد کی تربیت کی طرف عورتوں کو توجہ دینی چاہئے۔قومی ترقی کا انحصار آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت پر ہے۔جو ایک احمدی عورت کی ذمہ داری ہے۔اور اس کے لئے اسلامی تعلیم سے آراستہ ہونا بھی ضروری ہے۔حضرت عائشہ عورتوں کے حقوق ، اُن کے فرائض اور اُن کے کاموں سے خوب واقف تھیں و اپنی خلقت اور بناوٹ کی وجہ سے اس حصہ کو زیادہ یا درکھ سکتی تھیں اس لئے آنحضور نے نے فرمایا کہ یہ حصہ عائشہ سے سیکھو۔وہ صلى الله