انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 570

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۰ سیر روحانی (۶) نکل آئے تھے بلکہ اس کا اصل باعث یہ ہے کہ میں اس کا محافظ ہوں ورنہ دن کی روشنی میں اپنے کھوجیوں کی نشان دہی کے باوجود تم اسے پکڑنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے۔سُراقہ کا تعاقب پھر جب آپ مدینہ جارہے تھے ایک دشمن آپ کے سر پر پہنچ گیا مگر الہی تصرف کے ماتحت اُس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھٹنوں تک زمین میں پھنس گیا۔وہ پھر آگے بڑھا تو دوبارہ اُس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ پیٹ تک زمین میں پھنس گیا۔اس پر وہ گھبرا اُٹھا اور اُس نے سمجھا کہ یہ بلا وجہ نہیں ہو سکتا چنانچہ یا تو وہ آپ کی گرفتاری کے ارادہ سے باہر نکلا تھا یا بجز اور انکسار کے ساتھ وہ آپ سے معافی کا طالب ہوا اور اُس نے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایک دن ضرور غالب آکر رہیں گے۔۶۴ اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر خدا تعالیٰ نے آپ کی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی اور دشمن کو اپنے ناپاک عزائم میں نا کام رکھا۔الہی تصرف کے ماتحت دشمن اسی طرح غزوہ خطفان سے واپسی کے موقع پر جبکہ آپ ایک درخت کے نیچے سور ہے تھے ایک کے ہاتھ سے تلوار گر جانا دشمن آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ کے پاس جا پہنچا اور اُس نے آپ کی ہی تلوار سونت کر آپ کو جگایا اور پوچھا کہ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ اللہ۔ان الفاظ کا اُس پر ایسا ہیبت ناک اثر ہوا کہ اُس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً وہ تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑی اور اُس سے پوچھا کہ بتا اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو کریں ورنہ میری نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔۶۵ جنگ اُحد میں خدائی تصرف پھر جنگ اُحد میں ایک وقت ایسا آیا جب بعض صحابہ کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور آپ کے ارد گر دصرف چند صحابہ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپ اکیلے