انوارالعلوم (جلد 22) — Page 567
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۶۷ سیر روحانی (۶) میں کھڑے ہیں تو انہوں نے سمجھا آج عمر کے ارادے نیک نہیں ہیں اس لئے انہوں نے دروازہ کھولنے میں تامل کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ کھول دو۔حضرت حمزہ جو ابھی نئے ایمان لائے تھے جوش کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے دروازہ کھول دو اگر تو عمر کسی نیک ارادہ کے ساتھ آیا ہے تو بہتر ورنہ کیا عمر کو تلوار چلانی آتی ہے ہمیں تلوار چلانی نہیں آتی۔صحابہ نے دروازہ کھولا اور حضرت عمر اُسی طرح ننگی تلوار لئے اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا عمر ! تم کس ارادے سے آئے ہو؟ حضرت عمر نے عرض کیا یا رَسُولَ اللَّه! میں تو آپ کے خادموں میں داخل ہونے کے لئے حاضر ہو ا ہوں۔نعرہ ہائے تکبیر یہ سنگر آپ نے خوشی کے جوش میں اللهُ اَكْبَرُ کہا اور ساتھ ہی صحابہ نے بڑے زور کے ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں بھی گونج اُٹھیں۔10 خدا کی حفاظت کا غیر معمولی نشان اب دیکھ عمر تو اس ارادہ کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ آج میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار کر ہی واپس لوٹوں گا اُس وقت جبکہ عمر ا پنی تلوار سونت کر گھر سے نکلے ہونگے مکہ والے کتنے خوش ہونگے کہ آج عمر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کئے بغیر واپس نہ آئیگا، مکہ کے لوگ بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہے ہونگے کہ کب انہیں خوشخبری ملتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کر دیا گیا ہے ، وہ لوگ ایڑیاں اُٹھا اٹھا کر حضرت عمرؓ کی راہ تک رہے ہو نگے کہ کب وہ پہنچ کر اپنی کامیابی کی اطلاع دیتے ہیں ، وہ لوگ خوش ہونگے کہ آج عمرؓ اس جھگڑے کو ختم کر کے ہی واپس آئے گا۔عمرا اپنی جگہ خوش تھے اور گھر سے تلوار سونت کر نکلتے وقت کہہ رہے ہونگے کہ میرے جیسا بہادر بھلا فیصلہ کئے بغیر کوٹ سکتا ہے؟ غرض حضرت عمرا اپنی جگہ خوش تھے اور مکہ والے اپنی جگہ پر خوش تھے اس بات پر که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ضرور قتل ہو جا ئینگے مگر خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا اُن کی نادانی پر ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا ہم نے تجھ سے یہ