انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 544

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۴ سیر روحانی (۶) ایسے خلاف ماحول میں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! یہ جو تجھے اردگرد نظر آتا ہے کہ گندگی کا نام مذہب اور غلاظت کا نام نیکی رکھا جا رہا ہے یہ سب جھوٹ ہے ان خیالات کو دنیا سے نیست و نابود کر دے۔جسم کی صفائی کے متعلق رسول کریم چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جمعہ کو آؤ تو غسل کر کے آؤ ، صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مسجد میں آؤ تو پیاز کھا کر یا لہسن کھا کر نہ آؤ تا کہ تمہارے منہ سے بدبو نہ آئے۔عطر لگا کر آؤ۔پھر انسان کے ساتھ شہوت گئی ہوئی ہے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے بعد غسل کیا جائے لوگ پوچھتے ہیں کہ غسل جنابت کا فائدہ کیا ہے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ غسل جنابت ہی ہے جو تمہیں پاکیزہ رکھتا ہے۔اب تم مجبور ہو جاتے ہو کہ غسل کرو اور اگر غسل جنابت نہیں کرتے تو بے دین سمجھے جاتے ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر دنیا کی کایا پلٹ دی، مذہب کا نام غلاظت سمجھا جاتا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کا نام صفائی رکھ دیا۔اسی طرح لباس کی صفائی کے متعلق آپ نے احکام دیئے کہ جمعہ کے دن نئے کپڑے یا ڈھلے ہوئے کپڑے پہن کر آؤ، عیدوں پر تمہارے کپڑے دُھلے ہوئے ہوں ، غرض جسمانی صفائی پر آپ نے اتنا زور دیا کہ دنیا میں روحانیت کا جو نقشہ تھا اُس کو بالکل بدل دیا۔پہلے گندے اور غلیظ آدمی کے متعلق کہتے تھے کہ یہ نیک ہے اب صاف اور پاکیزہ آدمی کونیک کہتے ہیں کتنا بڑا تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ چونکہ سر میں چکر آنے کی مرض تھی آ با دام روغن اور مشک کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ ایک دفعہ میں درس دے کر واپس آ رہا تھا کہ ایک ہندو جس کے مکانات میں بعد میں صدر انجمن احمدیہ کے دفتر بن گئے ( کیونکہ ہم نے وہ مکان خرید لیا تھا ) اور جو ریٹائر ڈ ڈپٹی تھا