انوارالعلوم (جلد 22) — Page 532
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۲ سیر روحانی (۶) میلاد النبی کے وعظ یہ آیات تو قرآن کریم میں تیرہ سو سال سے موجود ہیں اور علماء نے ان آیات کی تفسیر میں بھی لکھی ہیں لیکن آجکل کل کے مولویوں کے وعظ خصوصاً میلادالنبی ” کے تم نے سنے ہی ہوں گے، جب وہ ان آیات کی تفسیر شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔ه او او کملی والیا! اے زُلفاں والیا ! اے کملی والیا! ایک ہندو وکیل سے گفتگو میں ایک دفعہ فیروز پور گیا وہاں ایک ہندو وکیل جو اچھا ہوشیار اور آریہ سماج کا سیکرٹری تھا مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا آپ کہتے ہیں ہندو مسلمان لڑتے رہتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی بتایا بھی کہ اسلام کیا چیز ہے؟ میں نے کہا تمہیں کیا بتائیں؟ کہنے لگے، میلادالنبی کا جلسہ ہوتا ہے تو ہم بھی جاتے ہیں کہ وہاں چل کر پتہ لگائیں گے کہ اسلام کیا ہوتا ہے مگر وہاں ہمیں یہ سنایا جاتا ہے کہ اے کملی والیا ! اے زُلفاں والیا! کہنے لگا ہم زُلفیں دیکھنا نہیں چاہتے ہم کملی دیکھنا نہیں چاہتے ہم تو تعلیم سٹنا چاہتے ہیں مگر بجائے یہ بتانے کے کہ رسول اللہ کی تعلیم کیا تھی ، آپ کے کیا کام تھے اور آپ کی کیا خدمات تھیں ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ آپ کی زُلفیں ایسی تھیں اور آپ کی عملی ایسی تھی ہم عشق مجازی تو نہیں کرنا چاہتے کہ ہمیں یہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔شرمندگی تو بہت ہوئی مگر خیر میں نے کہا لوگ غلطی کرتے ہیں ہمارا نقطہ نگاہ بھی آپ کبھی سُن لیں۔کہنے لگا میں نے آپ کی ایک تقریر سنی ہے اور اس سے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا طرز اور ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اس کے بعد یہ خواہش کرنا کہ ہم مسلمان ہو جائیں اور ہم سے اس کی امید رکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کیا کملی دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے یا زُلفیں دیکھ کر کوئی مسلمان ہوسکتا ہے؟ دربار خاص کا نقشہ دوسرے پس غیر احمدی بھی اس دربار کا نقشہ کھینچتے ہیں لیکن ان کا نقشہ میں پہلے سُنا دیتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں دربارِ خاص لگا ہوا ہے،