انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 526

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۲۶ سیر روحانی (۶) فضیلت حاصل ہے۔پہلے اُس دربار کا ذکر کیا گیا تھا جس میں آپ کا انتخاب عمل میں لایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم آپ کو اس منصب پر مقرر کر رہے ہیں اب اسی دربار کے دوسرے حصہ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کا کتنا بڑا اعزاز کیا گیا۔محبت اور اتحاد کا کمال اللہ تعالیٰ سورہ نجم میں فرماتا ہے وَهُوَ با لا فُقِ الأغلى ثم دنا فَتَدَليلُ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی یعنی بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور پھر وہ درباری اس کے قریب ہو ا جس کے بعد بادشاہ اپنے عرش سے اتر کر اُس کے پاس آ گیا اور اتنا اُس کے قریب ہو گیا کہ یوں نظر آتا تھا جیسے دو قومیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔گویا در بار لگا بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے اپنے اس درباری کو بلایا جس کے لئے دربارِ خاص منعقد کیا گیا تھا اور حکم بھیجا کہ ہمارے دربار میں حاضر ہو جاؤ ہم تمہارا اعزاز کرنا چاہتے ہیں۔یہاں تک تو باقی بادشاہوں سے بات ملتی ہے لیکن دنیا کے درباروں میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو کسی عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے وہ کھسک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کا اہل نہیں۔لیکن اس دربار کے متعلق فرماتا ہے کہ خدائی حکم کے ملتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قریب ہو گئے اور دوسرے درباروں کے خلاف جن میں بادشاہ اپنی جگہ سے کھسکتا نہیں خدا تعالیٰ عرش عظیم سے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اتنا قریب ہوا کہ یوں نظر آتا تھا گویا دو قوسیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔دوسری جگہ عام انسانوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کا یہ فعل موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے لا تدركه الأَبْصَارُ وَهُوَيدْرِكُ الأَبْصَارُ ٣ ابصار خدا تک نہیں پہنچتیں کیونکہ وہ نا کام رہ جاتی ہیں مگر خدا خو دلوگوں کی آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔قَابَ قَوْسَيْن کا نظارہ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا اور آپ اس کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے مگر جب چلے تو اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے جذبہ میں اپنی جگہ پر نہ ٹھہرا بلکہ آپ نیچے اتر