انوارالعلوم (جلد 22) — Page 511
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۱ سیر روحانی (۶) گندہ کر رہا ہوں میں اس کے متعلق اپنے خدا کو کیا جواب دونگا ؟ یہ کہہ کر وہ دربار سے نکل گئے مگر وہ اتنے ظالم اور جابر تھے کہ جب مسجد میں گئے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں تو ہر ایک نے یہی کہا کہ کم بخت ! کیا شیطانوں کی تو یہ بھی کہیں قبول ہوسکتی ہے نکل جا یہاں سے۔۔انہوں نے ہر جگہ پھر نا شروع کیا مگر کسی کو یہ جرات نہیں ہوتی تھی توبہ کی قبولیت کہ ان کی توبہ قبول کرے۔آخر وہ جنید بغدادی کے پاس پہنچے کہ اِس اِس طرح مجھ سے قصور ہوئے ہیں اور اب میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قبول ہو سکتی ہے مگر ایک شرط پر۔پہلے اسے مانو۔شبلی نے کہا مجھے وہ شرط بتا ئیں میں ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا اُس شہر میں جاؤ جہاں تم گورنر رہے ہو اور ہر گھر پر دستک دے کر کہو کہ میں تم سے معافی مانگتا ہوں اور جو جو ظلم تم نے کئے تھے ان کی لوگوں سے معافی لو۔انہوں نے کہا منظور ہے۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ہر دروازہ پر دستک دینی شروع کر دی جب لوگ نکلتے وہ کہتے کہ میں شیلی ہوں جو یہاں کا گورنر تھا میں قصور کرتا رہا ہوں ، خطائیں کرتا رہا ہوں اور تم لوگوں پر ظلم کرتا رہا ہوں اب میں اس کی معافی طلب کرتا ہوں۔لوگ کہہ دیتے کہ اچھا ہم نے معاف کر دیا لیکن نیکی کا بیج ہمیشہ بڑھتا اور رنگ لاتا ہے دس ہیں گھروں سے گزرے تو سارے شہر میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ وہ گورنر جوگل تک اتنا ظالم مشہور تھا وہ آج ہر دروازہ پر جا جا کر معافیاں مانگ رہا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت کا چشمہ پھوٹا اور انہوں نے کہا ہمارا خدا کتنا زبردست ہے کہ ایسے ایسے ظالموں کو بھی نیکی اور تو بہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔چنانچہ پھر تو یہ ہوا کہ شبلی جنید کے کہنے کے ماتحت ننگے پاؤں ہر دروازه پر جا کر دستک دیتے تھے لیکن بجائے اس کے کہ دروازہ کھل کر شکوہ اور شکایت کا دروازہ گھلتا اندر سے روتے ہوئے لوگ نکلتے اور کہتے تھے کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں آپ تو ہمارے لئے قابلِ قدر وجود ہیں اور ہمارے روحانی بزرگ ہیں آپ ہمیں اس طرح شرمندہ نہ کریں۔غرض سارے شہر سے انہوں نے معافی لی اور پھر وہ جنید کے پاس