انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 499

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۹ سیر روحانی (۶) مگر میں نے دیکھا کہ دنیوی بادشاہوں میں حقیقی محبت کا فقدان بادشاہ جب اپنے درباریوں کو کوئی اعزاز دیتے تھے تو ان کا اعزاز محض قانونی ہوتا تھا۔چنانچہ پہلی بات تو یہی ہے کہ بادشاہ اپنی محبت کا اور اپنے تعلقات کا اور اپنے اخلاص کا تو اظہار کرتا تھا لیکن بادشاہ کو ان لوگوں سے حقیقی محبت نہیں ہوتی تھی اس کی اصل محبت اپنے بیوی بچوں سے ہوتی تھی۔یہ کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ کسی شخص نے بڑی قربانی کی ہو اور اس نے اپنا تخت اُس کے سپر د کر دیا ہو یا اپنے اختیارات جو نیابت کے ہیں اُس کے سپر د کر دیئے ہوں۔اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ میں اپنی اولاد کی طاقت کو مضبوط کروں اور اُن کے لئے راستہ صاف کروں گویا یہ خدمت کرنے والے لوگ ایک قسم کے اجیر ہوتے تھے۔(۲) پھر بسا اوقات جو انعام ملتے تھے محض نمائشی انعامات اور خطابات نمائشی ہوتے تھے اور خدمت کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔مثلاً اپنے زمانہ کو ہی لے لو۔ابھی انگریزوں کی یاد تازہ ہے وہ کہتے تھے کہ فلاں کو خطاب دیا جاتا ہے اب وہ خان صاحب“ ہو گئے ہیں اور فلاں’’ خان بہادر ہو گئے ہیں اور حقیقت یہ ہوتی تھی کہ بسا اوقات خان بہادر صاحب کی چار پائی کے نیچے چو ہا بھی ہے تو اُن کی جان نکل جاتی تھی لیکن وہ خان بھی تھے اور بہادر بھی تھے۔گویا بادشاہ اُن کو ” خان بہادر تو بنا دیتا تھا لیکن حقیقتا نہ وہ خان بنتے تھے اور نہ بہادر ہوتے تھے۔یا مثلاً آجکل پٹھان بھی خان کہلاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے زمانہ ء حکومت میں انہوں نے بڑے بڑے کام کئے تھے جن سے دنیا میں اُن کا شہرہ ہوا اور اُنہیں خطاب عزت کے طور پر خان صاحب کا نام دے دیا گیا۔چنانچہ اُس زمانہ میں جو بادشاہ ہوتے تھے یا نواب اور امراء ہوتے تھے اُن کی عظمت کی وجہ سے انہیں خان ہی کہا جاتا تھا۔مغل بھی اپنے ابتدائی زمانہ میں خان کہلاتے تھے بلکہ بچپن میں جب میں اپنے شجرہ نسب کو سنتا تو میں حیران ہوتا تھا کہ پہلے کہا جاتا ہے فلاں خان ، فلاں خان، فلاں خان۔اور پھر شروع ہو جاتا ہے فلاں بیگ ، فلاں بیگ ، فلاں بیگ۔میں حیران